بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

جب کوئی بات سنو تو اسے آگے پہنچانے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرو سے متعلق حدیث


سوال

 کیایہ  آپ ﷺ نے فرمایا تھا یا یہ سنت رسول اللہ ہے کہ جب کوئی بات سنو تو اسے آگے پہنچانے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرو؟ 

حدیث  حوالہ سے بتا دیں۔

جواب

اصل میں تویہ  رب تعالى كا بيان كرده حكم هے  کہ جب بھی کوئی خبر آپ کو آن پہنچے تو اس کی تصدیق کر لیا کرو،جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: 

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ."( الحجرات، آيت نمبر: 6)

’’اے ایمان والو !اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو خوب تحقیق کرلیا کرو ،کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچادو، پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔‘‘

نيز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہر سنی سنائی بات کو آگے بغیر تصدیق کے بیان کرنے کو آدمی کے جھوٹے ہونے کے لیےمعیار قرار دیا ہے ، رسول اللہ صلي اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: 

" عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ. "

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔‘‘

(صحيح مسلم، باب النهى عن الحديث بكل ما سمع، (1/ 8) برقم (7)، ط/ دار الجيل بيروت)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144504100029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں