بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سیلاب زدگان کے نام پر ملے راشن میں سے کچھ غیر سیلاب زدگان کو دینا


سوال

ایک شخص کو ایک بندے نے وکیل بنا کرایک  کروڑ روپے دیے  اور اس کو  کہا کہ اِن پیسوں سے  راشن خرید کر   سیلاب زدگان  میں تقسیم کردو،  چناں چہ اُس  بندےنے اُن پیسوں کا راشن لیا اور  سیلاب زدگان میں تقسیم کردیا، البتہ اس میں سے 15 سے 20 پیکٹز راشن اُس نے اپنی قوم کے غریبوں میں تقسیم کیے، جو کہ سیلاب زدگان نہیں تھے اور  کا کا م کاج بھی کرتے تھے اور کچھ راشن اُس کی بیوی اپنی والدہ کے گھر لے گئی، کیوں کہ  اُن کے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں  تھا اور اُس بندے کی بیوی نے بطورِ مہمان اپنی والدہ کے گھر میں خود بھی اُس میں سے کچھ کھایا، حالاں کہ اُس کی مالی حالت ٹھیک تھی، اب سوال یہ ہے کہ اس بندے نے جو 15/20 پیکٹز راشن اپنی قوم کے ایسے لوگوں میں تقسیم کیے جو سیلاب زدگان نہیں تھے، اگر چہ غریب تھے اورکچھ راشن اپنی بیوی کے ہاتھ  اپنے سسرال میں بھیجا، کیا اس کا وہ ضامن ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص (مؤکل) نے دوسرے بندے (وکیل) کو  رقم دے کر سیلاب زدگان میں راشن تقسیم کرنے کا کہا  اور اس دوسرے بندے نے اُس راشن میں سے کچھ پیکجز  اپنی قوم کے ایسے لوگوں کو دیے جو سیلاب زدگان نہیں تھے یا جتنا راشن اُس نے اپنی بیوی کے ہاتھ اپنے سسرال بھیجاتو اس کا وہ پہلے شخص (مؤکل ) کے لیے ضامن ہوگا۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

"وهنا ‌الوكيل ‌إنما ‌يستفيد ‌التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره."

(كتاب الزكاة، 269/2، ط: سعيد)

فتاوٰی تاتارخانیہ میں ہے:

"سئل عمر الحافظ: رجل دفع إلی الآخر مالاً، فقال له: هٰذا زکاة مالي فادفعها إلی فلان، فدفعها الوکیل إلی الآخر، هل یضمن؟ فقال: نعم، وله التعیین."

(كتاب الزكاة، الفصل التاسع في المسائل المتعلقة، بمعطي الزكاة، 228/3، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100838

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں