بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

شيئرز كے كاروبار كاحكم


سوال

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کمپنیوں کے شیئرز لینا جائز ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اسٹاک ایکسچینج   کی سرمایہ کاری میں اگر مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھاجاتاہوتوجائزہے، ورنہ نہیں:

1۔ جس کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت کی جارہی ہو، خارج میں اس کمپنی کا وجود ہو، صرف کاغذی طور پر رجسٹرڈ نہ ہو۔

2۔  اس کمپنی کے کل اثاثے صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ اس کمپنی کی ملکیت میں جامد اثاثے بھی موجود ہوں۔

3۔ کمپنی کا کل یا کم از کم اکثر سرمایہ حلال ہو۔

4۔ کمپنی کا کاروبار جائز ہو، حرام اشیاء (مثلًا شراب اور خنزیر آلات لہوو لعب وغیرہ) یا حرام کام (مثلًا سود اور جوا وغیرہ) کے کاروبار پر مشتمل نہ ہو؛  لہٰذا کسی ایسی کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا جو شراب یا خنزیر وغیرہ حرام اشیاء کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتی ہو، اسی طرح جو کمپنیاں سود اور جوئے کا کام کرتی ہو (مثلًا بینک یا انشورنس کمپنی) اس کے شیئرز کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہے۔

5۔نفع ونقصان کی بنیاد پر شیئرزخریدیے جائیں ۔

6۔ شیئرز خرید تے وقت اس میں  خرید و فروخت کی تمام شرائط کی پابندی ہو۔ مثلاً: شیئرز خریدنے کے بعد وہ خریدار کے قبضے اور  ملکیت  میں  آجائیں، اس کے بعد انہیں آگے فروخت کیا جائے، خریدار کی ملکیت مکمل ہونے اور قبضے سے پہلے شیئرز آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا، موجودہ زمانے کے قبضہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ شیئرز سی ڈی سی کے اکاؤنٹس میں  مشتری کے نام منتقل ہو جائیں شیئرز خرید نے کے بعد موبائل میں صرف میسج آجانے کے بعد خریدار کا آگے فروخت کرنا جائز جائز نہیں ہو گا ۔ اسی طرح  شیئرز کی شارٹ سیل (یعنی مشتری کی ملکیت میں شیئر آنے سے پہلے آگے بیچنا) اور فارورڈ سیل ( یعنی بیع کومستقبل کے زمانے کی طرف نسبت کرنا) نہ کی جائے۔

7۔ حاصل شدہ منافع کل کا کل شیئرز ہولڈرز میں تقسیم کیا جاتا ہو، (احتیاطی) ریزرو کے طور پر نفع کا کچھ حصہ محفوظ نہ کیا جاتا ہو۔

8۔ شیئرز کی خرید و فروخت کے دوران بالواسطہ یا بلاواسطہ سود اور جوے کے کسی معاہدے کا حصہ بننے سے احتراز کیا جاتا ہو، نیز ایسی کمپنی کے شیئرز نہ خریدے جائیں جس کمپنی نے کسی بینک وغیرہ سے سودپر قرضہ لیا ہو ۔

مذکورہ بالا شرائط کی رعایت کرتے ہوئے اگر شیئرز کا کاروبار کیا جائے تو جائز ہوگا، اور شرائط کا لحاظ نہ رکھنے کی صورت میں یہ کاروبار جائز نہیں ہوگا۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ اس کاروبار سے اجتناب کیا جائے، اس لیے کہ اسٹاک ایکسچینج میں ان تمام شرائط کے ساتھ شیئرز کا کاروبار بہت مشکل ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"‌أما ‌شركة ‌العنان فهي أن يشترك اثنان في نوع من التجارات بر أو طعام أو يشتركان في عموم التجارات ولا يذكران الكفالة خاصة، كذا في فتح القدير، وصورتها أن يشترك اثنان في نوع خاص من التجارات أو يشتركان في عموم التجارات ولا يذكران الكفالة والمفاوضة فيها فتضمنت معنى الوكالة دون الكفالة حتى تجوز هذه الشركة بين كل من كان من أهل التجارة، كذا في محيط السرخسي. فتجوز هذه الشركة بين الرجال والنساء والبالغ والصبي المأذون والحر والعبد المأذون في التجارة والمسلم والكافر، كذا في فتاوى قاضي خان. وفي التجريد " والمكاتب "، كذا في التهذيب۔۔۔وأما شرط جوازها فكون رأس المال عينا حاضرا أو غائبا عن مجلس العقد لكن مشارا إليه، والمساواة في رأس المال ليست بشرط ويجوز التفاضل في الربح مع تساويهما في رأس المال، كذا في محيط السرخسي".

(كتاب الشركة،الباب الثالث في شركة العنان ،  ٢ / ٣١٩، دار الفكر)

فتاوى هندية میں ہے :

’’و إذا عرفت المبيع و الثمن فنقول من حكم المبيع إذا كان منقولًا أن لايجوز بيعه قبل القبض.‘‘

 (كتاب البيوع،الفصل الثالث،3/ 13،المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

البحرالرائق میں ہے :

"‌وأما ‌شرائط ‌المعقود عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كنتاج النتاج والحمل واللبن في الضرع والثمر والزرع قبل الظهور والبزر في البطيخ والنوى في التمر واللحم في الشاة الحية والشحم والألية فيها وأكارعها ورأسها والسجير في السمسم، وهذا الفص على أنه ياقوت فإذا هو زجاج أو هذا الثوب الهروي فإذا هو مروي أو هذا العبد فإذا هو جارية أو دار على أن بناءها آجر فإذا هو لبن أو ثوب على أنه مصبوغ بعصفر فإذا هو بزعفران أو هو حنطة في جوالق فإذا هي دقيق أو دقيق فإذا هي خبز أو هذا الثوب القز فإذا لحمته من ملحم".

(كتاب البيع،شرط العقد، ٥ / ٢٧٩ - ٢٨٠، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144404100827

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں