بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سگریٹ کی تجارت کا حکم


سوال

سگریٹ اور  ای سگریٹ کی تجارت کا حکم؟اور ماضی میں اس تجارت سے کمائے  ہوئے  مال کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سگریٹ  میں حدت (تیزی) ،اور بدبو ہے اور  اس  کے استعمال کرنے والے کی صحت کو مستقبل میں نقصان لاحق ہوتے ہیں؛  لہذا اس کا کاروبار کرنا بہتر نہیں ہے، تاہم اگر کوئی یہ کام کرکے کچھ کاتا ہے، تو وہ آمدنی حرام نہیں ہے، اسی طرح  اور ماضی میں اس کی تجارت سے کمایاہوا مال بھی حلال ہے،  البتہ اس  کی جگہ  دیگر اچھے کاروبار کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔  

الدر مع الرد میں ہے:

"وفي الأشباه في قاعدة: الأصل الإباحة أو التوقف، ويظهر أثره فيما أشكل حاله كالحيوان المشكل أمره والنبات المجهول سمته اهـ قلت: فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه. (قوله: ربما أضر بالبدن) الواقع أنه يختلف باختلاف المستعملين ط (قوله: الأصل الإباحة أو التوقف) المختار الأول عند الجمهور من الحنفية والشافعية كما صرح به المحقق ابن الهمام في تحرير الأصول (قوله: فيفهم منه حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف. وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه."

[كتاب الأشربة، 460/6، ط: سعيد]

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وألف في حله أيضًا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالةً سماها (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان) ... فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه سواء كان ممن يتعاطاه أو لا كهذا العبد الضعيف و جميع من في بيته أن يقول: هو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع؛ فهو مكروه طبعًا لا شرعًا إلى آخر ما أطال به - رحمه الله تعالى -."

[کتاب الأشربة، ج:6، ص:459،ط: سعید]

کفایت المفتی میں ہے:

"(سوال ) میں نے ایک دکان فی الحال کھولی ہے جس میں متفرق اشیاء ہیں، ارادہ ہے کہ سگریٹ اور پینے کا تمباکو بھی رکھ لوں، یہ ناجائز تو نہیں ہوگا ؟

( جواب ) سگریٹ اور تمباکو کی تجارت جائز ہے او ر اس کا نفع استعمال میں لانا حلال ہے۔محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ۔"

(کتاب الحظر و الاباحۃ ،148/9،ط:دارالاشاعت)

احسن الفتاوی میں ہے:

"سوال:سگریٹ کی تجارت جائز ہے یا ناجائز؟

جواب:جائز ہے۔"

(کتاب البیوع ،ج:6،ص:495، ط:سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"افیون کی آمدنی سے جو زمین خرید کر اس میں کاشت کرتے ہیں، اس کاشت کی آمدنی کو حرام نہیں کہاجائے گا، ایسی آمدنی سے چندہ لینا بھی درست ہے اور ان کےیہاں کھانا پینا بھی درست ہے فقط  واللہ سبحانہ تعالی اعلم۔"

(باب البیع الباطل والفاسد والمکروہ،ج:16، ص:124، ط:ادارہ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101333

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں