بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سگریٹ نسوار اور گٹکے کی تجارت


سوال

میں کراچی میں رہتا ہوں اور ایک گروسری اسٹور پر کام کرتا ہوں، جہاں سگریٹ، نسوار، گٹکا اور فلٹر تباق جیسی کم درجے کی نشہ آور اشیاء فروخت کرنا بہت عام ہے۔  میں نے انٹرنیٹ پر متعدد بار تلاش کیا کہ آیا یہ اشیاء فروخت کرنا جائز ہیں یا نہیں اور اس نتیجے پر پہنچا کہ جس چیز کا استعمال کرنا حرام ہے،اس کی  تجارت کرنا حرام ہے۔

دکان سے ان اشیاء کو چھوڑنے کے باوجود میں فروخت میں کمی کے خطرے کی وجہ سے ایسا کرنے سے ڈرتا ہوں، (تقریباً 25-45% منافع ان نشہ آور اشیاء سے حاصل ہوتا ہے)۔  میں جانتا ہوں کہ حلال کی کمائی حرام کمائی سے بہت بہتر ہے لیکن میری فیملی (10 افراد) اس دکان پر منحصر ہیں۔  میں اس صورت حال کا حکم جاننا چاہتا ہوں؛ کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ جو شخص ایک لقمہ  حرام کھائے گا اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوگی۔  

جواب

واضح رہے کہ سگریٹ،نسوا  اورگٹکا وغیرہ   اشیاء میں شراب کی طرح ایسا نشہ نہیں ہے کہ   جس کی وجہ سے عقل مغلوب ہو جائے؛  اس لیے ان اشیاء کو  نشہ آور نہیں کہا جا سکتا، بلکہ ان کے استعمال کی عادت پڑجانے کی وجہ سے ان کا ترک مشکل ہوجاتاہے، اور جب ان اشیاء کا عادی ان چیزوں کا استعمال نہ کرے تو اسے سر میں درد ہوتاہے، یا مشکل پیش آتی ہے، جیساکہ بعض لوگوں کو چائے کی ایسی عادت ہوجاتی ہے۔لہذاسگریٹ ،نسوار اور گٹکا  شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کی طرح  حرام  نہیں ہیں ۔

البتہ سگریٹ،نسوار  اور تمباکو  میں حدت (تیزی) ،اور بدبو ہے اور  ان  کے استعمال کرنے والے کی صحت کو مستقبل میں نقصان لاحق ہوتے ہیں؛  لہذا ان اشیاء  کا کاروبار کراہتِ  تنزیہی کے ساتھ جائز ہے ،  البتہ دیگر اچھے کاروبار کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔  

باقی گٹکا ،ماوا  وغیرہ    مضرِّ  صحت ہونے کی وجہ سے قانونی طور پر  ان کی خرید و فروخت سخت ممنوع ہے،  جس پر قانوناً سزا بھی دی جاتی ہے، لہذا حکومتی قانون کی پاس داری اور حفظانِ صحت کا لحاظ کرتے ہوئے گٹکا اور ماوا وغیرہ کھانے اور اس کے بیچنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

حلال آمدن کی فکر اور حرام سے اجتناب کے حوالے سے سائل کا جذبہ قابلِ تحسین ہے، اللہ تعالیٰ آپ اور تمام مسلمانوں کو حلال  رزق کمانے اور جائز مصارف میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حرام ذرائعِ آمدن اور ناجائز مصارف میں خرچ کرنے سے سب کو محفوظ فرمائے، آمین!

تفسیر قرطبی میں ہے:

"{ ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة }الآية :195
التقدير لا تلقوا أنفسكم بأيديكم كما تقول : لا تفسد حالك برايك والتهلكة ( بضم اللام ) مصدر من هلك يهلك هلاكا وهلكا وتهلكة أي لا تأخذوا فيما يهلككم
وقال الطبري : قوله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة عام في جميع ما ذكر لدخوله فيه إذ اللفظ يحتمله."

(سورة البقرة،ج:2،:359،ط:دارالکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وألف في حله أيضًا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالةً سماها (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان) ... فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه سواء كان ممن يتعاطاه أو لا كهذا العبد الضعيف و جميع من في بيته أن يقول: هو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع؛ فهو مكروه طبعًا لا شرعًا إلى آخر ما أطال به - رحمه الله تعالى -."

(کتاب الاشربہ  ج نمبر ۶ ص نمبر ۴۵۹،ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع".

(باب بيع الفاسد، ج:5، ص:69، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.  قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لايجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل".

(كتاب الاشربة، جلد:6، صفحہ:454، طبع:سعيد) 

بدائع الصنائع میں ہے:

"لأنّ طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض، فكيف فيما هو طاعة؟"

(كتاب السير، فصل فى أحكام البغاة، ج:9، ص :453، ط:دارالحديث. القاهرة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407102090

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں