بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سفارشی امام کے پیچھے نماز


سوال

کچھ عرصہ قبل ہمارے ہاں  سول سیکرٹریٹ  میں خطیب  کی ایک  اسامی پر درخواستیں طلب کی گئیں،   مذکورہ اسامی پر بے شمار جید علماءِ  کرام نے درخواستیں جمع کیں،  ٹیسٹ و انٹرویو لینے کے بعد سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین نے اپنے بھائی جس کی قراءت بھی کافی کمزور ہے کو بھرتی کر لیا،  اب سوال یہ ہے کہ چونکہ مذکورہ خطیب سفارش پر بھرتی ہوا ہے اور  جید علماء کی حق تلفی ہوئی ،کیا ان کے پیچھے مستقل طور پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر ان امام کی قرات میں ایسی غلطی ہو جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، پھر ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ، ورنہ ان کے پیچھے نماز پڑھناجائز ہے، باقی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کے لیے جید علماء کرام کو چھوڑ کر کمزور قراءت والے رشتہ دار کو بھرتی کرنا امانت میں خیانت ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201070

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں