بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سدرۃ المنتہی نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

سدرۃ المنتہی نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

احادیث میں ’’سدرۃ المنتہٰی‘‘ اور ’’السدرۃ المنتہٰی‘‘ دونوں طرح استعمال ہوا ہے۔ قرآن کریم میں ’’سدرۃ المنتہٰی‘‘ استعمال ہوا ہے۔ ’’سدرۃ‘‘ کے معنی بیر کے ہیں اور ’’منتہٰی‘‘کے معنی انتہا ہونے کی جگہ کے ہیں۔ اس درخت کا یہ نام رکھنے کی وجہ صحیح مسلم میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اوپر سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ اسی پر منتہی ہوجاتے ہیں اور جو بندوں کے اعمال نیچے سے اوپر جاتے ہیں وہ وہاں پر ٹھہر جاتے ہیں، یعنی آنے والے احکام پہلے وہاں آتے ہیں، پھر وہا ں سے نازل ہوتے ہیں اور نیچے سے جانے والے جو اعمال ہیں وہ وہاں ٹھہر جاتے ہیں، پھر اوپراٹھائے جاتے ہیں۔قرآن پاک میں ارشاد ہے:

’’وَلَقَدْ رَآه نَزْلَة أُخْرَی عِنْدَ سِدْرَة الْمُنْتَهی عِنْدَها جَنَّة الْمَأْویٰ ‘‘۔ (النجم:۱۳،۱۴،۱۵)

ترجمہ:…’’اور بخدا اس تمہارے نبی نے تو اس (ملکی رسول) کو ایک مرتبہ اور اُترتے وقت سدرۃُ المنتہیٰ کے پاس جس کے قریب جنت الماویٰ ہے، دیکھا ہے‘‘

بہتر ہے کہ اس نام کی جگہ  صحابیات کے نام میں سے کوئی نام رکھا جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں