بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

صدیقی شخص کے لیے زکات لینے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص صدیقی سادات میں سے  ہو ،اور اس کا شجرہ نسب ، سیدنا امام قاسم بن سیدنا محمد بن حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے ملتا ہو، تو اسے زکات لگتی ہےیا نہیں؟  کیا اسے زکات دے سکتے ہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص صدیقی   ہو،اور ضرورت مند اور مستحقِ زکات بھی ہو(یعنی اس کی ملکیت میں اس کی ضروریات اصلیہ سے زائد ،نصاب کے برابر سونا ،چاندی،نقد رقم،سامان تجارت وغیرہ نہ ہو) ،تو ایسے شخص کے لیے زکات لینا جائز ہے،اور دینے والے کی زکات ادا ہوجائے گی، نیز یہ بات واضح رہے کہ 'سادات'  کی اصطلاح ،اب صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس اولاد کی نسل کے لیےاستعما ل کی جاتی ہے،جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہوئی ،اس کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دیگر اولاد ،جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کےعلادہ دیگر ازواج کے بطن سے ہوئی،ان کی نسل کو عرف میں 'سادات' نہیں ،بلکہ 'علوی،اعوان' وغیرہ کہتے ہیں۔ 

صحیح مسلم میں ہے:

"حدثني ‌زهير بن حرب ‌وشجاع بن مخلد جميعا عن ‌ابن علية ، قال زهير: حدثنا ‌إسماعيل بن إبراهيم ، حدثني ‌أبو حيان ، حدثني ‌يزيد بن حيان قال: « انطلقت أنا وحصين بن سبرة وعمر بن مسلم إلى ‌زيد بن أرقم ، فلما جلسنا إليه قال له حصين: لقد لقيت يا زيد خيرا كثيرا، رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعت حديثه وغزوت معه وصليت خلفه، لقد لقيت يا زيد خيرا كثيرا، حدثنا يا زيد ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال: يا ابن أخي، والله لقد كبرت سني وقدم عهدي، ونسيت بعض الذي كنت أعي من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فما حدثتكم فاقبلوا، وما لا فلا تكلفونيه. ثم قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فينا خطيبا بماء يدعى خما بين مكة والمدينة فحمد الله وأثنى عليه ووعظ وذكر، ثم قال: أما بعد، ألا أيها الناس فإنما أنا بشر يوشك أن يأتي رسول ربي فأجيب، وأنا تارك فيكم ثقلين أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور، فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به - فحث على كتاب الله ورغب فيه، ثم قال: وأهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي. فقال له حصين: ومن أهل بيته يا زيد؟ أليس نساؤه من أهل بيته؟ قال: نساؤه من أهل بيته، ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده. قال: ومن هم؟ قال: هم آل علي وآل عقيل وآل جعفر وآل عباس. قال: كل هؤلاء حرم الصدقة؟ قال: نعم ."

(كتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علي ابي طالب رضي الله عنه، ج:7، ص:122، رقم:2408، ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)

ترجمہ:

" یزید بن حیان کہتے ہیں کہ میں اور حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم (ہم تینوں) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کے پاس گئے،  ۔۔۔ پھر انہوں (زید بن ارقم) نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ’’غدیرِ خم‘‘ جو مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے کے مقام پر ہمیں خطبہ دیا، چناں چہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور وعظ و نصیحت کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: امابعد! اے لوگو! آگاہ رہو، میں بھی ایک بشر ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا پیامبر (موت کا فرشتہ) میرے پاس آئے اور میں اسے لبیک کہوں، لہٰذا میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہاہوں، پہلی چیز اللہ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، سو اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو، پھر آپ ﷺ نے کتاب اللہ کے اتباع پر لوگوں کو آمادہ کیا اور خوب ترغیب دی، پھر فرمایا: اور (دوسری چیز) میرے اہلِ بیت، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کی نصیحت کرتاہوں،  میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کی نصیحت کرتاہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کی نصیحت کرتاہوں۔ یزید بن حیان کہتے ہیں: حصین نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: اے زید! رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی ازواجِ مطہرات اہلِ بیت میں سے نہیں ہیں؟ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اہلِ بیت میں سے ہیں، لیکن (یہاں) اہلِ بیت وہ ہیں جن کے لیے صدقہ لینا حرام کردیا گیا ہے۔ حصین نے پوچھا: وہ کون ہیں (جن پر صدقہ لینا حرام ہے)؟ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ علی (رضی اللہ عنہ) کی اولاد ہیں، عقیل (رضی اللہ عنہ) کی اولاد ہیں، جعفر (رضی اللہ عنہ) کی اولاد ہیں، عباس (رضی اللہ عنہ) کی اولاد ہیں۔ حصین نے کہا: کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں."

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"و لايدفع الي بني هاشم وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداىة".

(کتاب الزکاۃ،الباب السابع فی المصرف،ج:1،ص:189،ط:رشیدیہ)

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌وبنو ‌هاشم الذين تحرم عليهم ‌الصدقات آل العباس، وآل علي، وآل جعفر، وآل عقيل، وولد الحارث بن عبد المطلب كذا ذكره الكرخی."

(كتاب الزكاة، فصل شرائط ركن الزكاة، ج:2، ص:49، ط:دار الكتب العلمية وغيرها)

مذکورہ روایت اور  دیگر حوالہ جات  سے معلوم ہوا کہ اس میں مذکورپانچ خاندانوں  کے علاوہ ،دیگر خاندانوں کے لیے زکات لینا جائز ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102107

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں