بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کی اجازت کے بغیر اعتکاف میں بیٹھنے کا حکم


سوال

بیوی کی اجازت کے بغیر رمضان المبارک کے عشرۂ اخیرہ میں اعتکاف کا کیا حکم ہے ؟

جواب

شوہر بیوی کی اجازت کے بغیر دس دن کے  لیے اعتکاف میں بیٹھ سکتا ہے، تاہم شوہر پر لازم ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے پہلے بیوی بچوں کے خرچ کا انتظام کرلے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: و لايبلغ مدة الإيلاء) تقدم عن الفتح التعبير بقوله ويجب أن لا يبلغ إلخ. وظاهره أنه منقول، لكن ذكر قبله في مقدار الدور أنه لا ينبغي أن يطلق له مقدار مدة الإيلاء وهو أربعة أشهر، فهذا بحث منه كما سيذكره الشارح فالظاهر أن ما هنا مبني على هذا البحث تأمل، ثم قوله وهو أربعة يفيد أن المراد إيلاء الحرة، ويؤيد ذلك أن عمر - رضي الله تعالى عنه - لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها".

(کتاب النکاح، باب القسم بین الزوجات، ج:3، ص:203، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201828

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں