بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 صفر 1444ھ 25 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

شوہر، ایک بھائی اور چار بہنوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

میری بہن کا انتقال ہوا ہے، جن کی کوئی اولاد نہیں تھی، ورثاء میں شوہر، ایک بھائی، اور چار بہنیں ہیں، مرحومہ کے والدین، دادا دادی، نانا نانی کا انتقال میری مرحومہ بہن سے پہلے ہی ہوچکا ہے۔

شریعت کی روشنی میں مرحومہ کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحوم پر قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز صورت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد  باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 12 حصوں میں تقسیم کرکے، 6 حصے مرحومہ کے شوہر کو، 2 حصے مرحومہ کے بھائی کو، اور ایک ایک حصہ مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت: 2 / 12

شوہربھائیبہنبہنبہنبہن
11
621111

یعنی 100 روپے میں سے 50 روپے مرحومہ کے شوہر کو، 16 روپے 66 پیسے مرحومہ کے بھائی کو، 8 روپے 33 پیسے مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100461

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں