بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

شوہر کو کورٹ کا دباؤ دلاکر لی جانے والی طلاق، طلاقِ مبارات کہلائے گی یا نہیں؟


سوال

طلاق مبارات وہ طلاق ہوتی ہے، جو میاں بیوی کی آپس کی رضامندی سے لی گئی ہو، اسی طرح اگرطلاق شوہر کو کورٹ کے دباؤ دلاکر لی جائے، اور بیوی طلاق کے بدلے کوئی رقم بھی نہ دے، تو کیا تب بھی یہ طلاق، طلاقِ مبارات کہلائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ ’’طلاقِ مبارات‘‘ سے مراد وہ طلاق واقع ہوتی ہے، جس میں نکاح کی وجہ سے میاں بیوی میں سے ہرایک کے ذمہ واجب حقوق ہرایک (میاں بیوی) کے ذمہ سے ساقط ہوجاتے ہیں، اور اس طلاق کے بعد پھر میاں بیوی میں سے کسی کو بھی دوسرے سے اپنے حقوق کے مطالبہ کرنے کا  شرعاً حق حاصل نہیں رہتاہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر بیوی نے شوہرکو کورٹ کے ذریعہ  ان سے طلاق لی ہے، اور شوہر اور بیوی نے ایک دوسرے کے حقوق معاف کرنے کی بات طے  کی ہے، تو یہ طلاق بھی طلاقِ مبارات کہلائے گی، اگر چہ بیوی نے طلاق کے بدلے کوئی رقم نہیں دی ہو، اور اس کے بعد  میاں بیوی میں سے کسی کو بھی دوسرے سے اپنے سابقہ حقوق کی واپسی کے مطالبہ کرنے کا شرعاً کوئی حاصل نہیں رہے گا۔

نیز’’ مُبَارَات‘‘ اور ’’خلع‘‘کا حکم ایک ہی ہے، یعنی جس طرح خلع میں میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق سے آزاد ہو جاتے ہیں، یعنی شوہر پر بیوی کا حق مہر لازم نہیں ہوتا اور نہ بیوی کے گزشتہ زمانہ کا نفقہ لازم ہوتا ہے، اسی طرح "مبارات" میں بھی میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق سے آزاد ہوجاتے ہیں، یعنی جس طرح خلع سے میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجاتاہے، اسی طرح طلاقِ مبارات سے بھی میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجاتاہے، تاہم اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے طلاقِ مبارات کے بعد دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں اور شوہر نے تین طلاق نہ دی ہو  تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئےمہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرسکتے ہیں۔

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

"والحاصل أن الخلع، والمبارأة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - توجبان براءة كل واحد منهما عن صاحبه من الحقوق الواجبة بالنكاح حتى لا يرجع أحدهما على صاحبه بشيء بعد ذلك، وعند محمد لا يوجبان إلا المسمى في العقد، وفيما سوى ذلك من حقوق النكاح يجعل كالفرقة بغير جعل بالطلاق، وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - في الخلع الجواب كما قال محمد - رحمه الله تعالى -، وفي ‌المبارأة الجواب كما قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - وجه قول محمد - رضي الله عنه - أن هذا طلاق بعوض فيجب به العوض المسمى، ولا يسقط شيء من الحقوق الواجبة كما لو كان بلفظ الطلاق."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:189، ط:دار المعرفة)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ويسقط الخلع والمبارأة كل حق لكل واحد على الآخر مما يتعلق بالنكاح كذا في كنز الدقائق."

(الباب الثامن في الخلع، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج:1، ص:488، ط:دار الفكر)

العنایہ شرح ہدایہ میں ہے:

"قال: (والمبارأة كالخلع) المبارأة بفتح الهمزة مفاعلة من بارأ شريكه: إذا أبرأ كل واحد منهما صاحبه وترك الهمزة خطأ، وكذا في المغرب. والأصل في هذا الفصل أن المبارأة والخلع (كلاهما يسقط كل حق لكل واحد من الزوجين على الآخر مما يتعلق بالنكاح) كالمهر والنفقة الماضية دون المستقبلة لأن للمختلعة والمبارئة النفقة والسكنى ما دامت في العدة به صرح الحاكم الشهيد في الكافي."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:4، ص:233، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402101648

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں