بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی وفات کے بعد بیوہ اور بچہ کی پرورش کا حکم


سوال

 میری 26 سالہ بیٹی جس کی شادی مارچ 2023ء میں ہوئی تھی اور تقریباً نو ماہ بعد بیوہ ہو گئی ہے ، اُس کا ایک بیٹا تقریباً ایک ماہ کا ہے جو کے بیوہ ہونے کے بعد پیدا ہوا ہے،آپ سےدوباتیں پوچھنی ہیں:

 1) عدت کے بارے کیا حکم ہے؟

2) جہاں شادی کی تھی وہاں ساس،سسر،اورایک چھوٹا دیور تقریباً 23سال کا اور ایک چھوٹی نند تقریباً 24 سال کی دونوں کی شادی نہیں ہوئی ہے ایک کرایہ کے گھر میں رہتے ہیں، ابھی میری بیٹی اور نواسہ میرے پاس ہیں، اور مستقبل میں دونوں کی رہائش کے بارے میں ہمارے دین کے مطابق راہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ ۔

جواب

1)واضح رہے کہ حاملہ  عورت کی عدت خواہ طلاق کی وجہ سے ہو یا شوہر کی وفات کی وجہ سے ہو  بہر صورت  وضع ِحمل(یعنی بچہ کی  پیدائش تک) ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃً  سائل کےدامادکےانتقال ہونےکےبعد سائل کےنواسہ   کی پیدائش ہوئی ہےتو   سائل کی بیٹی  کی عدت بچہ کی پیدائش سے پوری ہوچکی ہے،  لہذا اب مزید عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہے۔

2)عدت گزرنے کے بعد سائل کی بیٹی سائل کے پاس رہے گی،اگر سائل کی بیٹی کے پاس مال ہے تو اس کا خرچ خود اس پر ہے، اگر مال نہیں ہے تومذکورہ بیٹی کی شادی ہونےتک خرچہ  اٹھاناسائل( والد) کے ذمے ہے،اورسائل کانواسہ اپنی ماں کےپاس  سات سال تک رہے گا،سات سال کے بعداگر دادا بچہ کو اپنی پرورش اور تربیت میں لینا چاہیں تو لے سکتا ہے ،باقی جہاں تک  اس کے خرچہ کا تعلق ہے تو مذکورہ بچےکےپاس اگر مال ہے خواہ پہلے سے ان کے پاس رہا ہو یا والد کے ترکہ سے ملا ہو توبچے کے اپنے مال سے بچہ پر خرچ کیا جائے گا، اگرمال نہیں ہے تو پھربچہ کا خرچہ دادا اور ماں کے ذمے اثلاثًا یعنی دو حصے دادا پر اور ایک حصہ ماں کے ذمے لازم ہے۔

1)فتاوی شامی میں ہے:

"(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها)."

(كتاب الطلاق، باب العدة: 3 /511، ط: سعید)

2)فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة."

( كتاب الطلاق ، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الرابع في نفقة الاولاد ، ج:1 ، ص:563 ، ط:دارالفكر )

مبسوط سرخسی میں ہے :

"والذي قلنا في الصغار من الأولاد كذلك في الكبار إذا كن إناثا؛ لأن النساء ‌عاجزات ‌عن ‌الكسب؛ واستحقاق النفقة لعجز المنفق عليه عن كسبه."

( باب  نفقة ذوى الارحام ،ج:5 ، ص:223 ، ط:دارالمعرفة)

فتاوی شامی میں ہے :

"قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة وهل إذا نشزت عن طاعته تجب لها النفقة على أبيها محل تردد فتأمل، وتقدم أنه ليس للأب أن يؤجرها في عمل أو خدمة، وأنه لو كان لها كسب لا تجب عليه."

( كتاب الطلاق ، باب النفقة ، مطلب الصغير و المكتسب نفقة كسبه لا على ابيه ، ج:3 ، ص:614 ، ط: سعيد)

وفيها أيضا:

"نفقة الصغير تجب على قريبه المحرم ‌بقدر ‌الإرث كما في المتون أي ‌بقدر إرث المحرم من الصغير لو مات فإذا كانت الأم هنا أم الصغار صح كون الثلث عليها والباقي على الجد، لأنه قدر إرثها منهم."

     (كتاب الفرائض، 6/ 771، ط: سعيد)

تبیین الحقائق میں ہے:

"قال - رحمه الله - (ولقريب محرم فقير عاجز عن الكسب ‌بقدر ‌الإرث لو موسرا) يعني تجب النفقة لكل ذي رحم محرم إذا كان فقيرا عاجزا عن الكسب لصغره أو لأنوثته أو لعمى أو لزمانة، وكان هو موسرا لتحقق العجز بهذه الأعذار ، والقدرة عليه باليسار، ويجب ذلك ‌بقدر ‌الإرث لقوله تعالى {وعلى الوارث مثل ذلك} [البقرة: 233] فجعل العلة هي الإرث فيتقدر الوجوب بقدر العلة، وفي قراءة ابن مسعود وعلى الوارث ذي الرحم المحرم، وهي مشهو ر ة فجاز التقييد بها، ويجبر على ذلك لأنه حق مستحق عليه."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، 3 /  64، ط: المطبعة الكبری الأميریة،القاهرة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101858

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں