بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا بچے کی پیدائش کے لیے امریکہ جانا


سوال

میری شادی2020ءمیں ہوئی ، میرے ہاں جڑواں بچوں کی امید تھی ، میرے سسر یہ چاہتے تھے کہ بچوں کی پیدائش امریکہ میں ہو، لیکن میں نہیں  چاہتا تھا ، اس لیے میں نے منع کردیا ، اس کے باوجود میرے سسر میری گھر والی کو میری اجازت کے بغیر اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ:

1۔ کیامیری بیوی کو شریعت یہ اجازت دیتی ہے کہ وہ میری اجازت اور مجھے بتائے بغیر اپنا ملک چھوڑکرکسی دوسرے ملک  چلی جائے؟

2۔کیامیری بیوی یا اس کے والدین میری اجازت کے بغیرمیرے بچوں کی پیدائش کسی اور ملک میں کرواسکتے ہیں؟

3۔کیا میرے بچوں کے بارے میں میری اہلیہ میری اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ کرسکتی ہے؟

4۔گھریلو معاملات اور شادی شدہ زندگی سے متعلق امور میں میری بیوی کو کس کی بات ماننی چاہیے؟ میری یا اپنے والدین کی؟

5۔ میں اپنی اہلیہ سے ملنے امریکہ جارہا ہوں تاکہ معاملات درست ہوجائیں  ، اگر میرے سسرال والے میری بیوی کو مجھ سے ملنے نہ دیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں بیوی کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، چہ جائےکہ شوہر کی اجازت کے بغیر ملک  سے باہر جاکر رہے،احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،   ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ : شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : شوہر کا حق اس پر یہ ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتہ اور رحمت وعذاب کے فرشتہ  اس پر لعنت بھیجیں گے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔

الترغيب والترهيب للمنذری میں ہے:

"وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما أن امرأة من خثعم أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله! أخبرني ما حق الزوج على الزوجة؟؛ فإني امرأة أيم فإن استطعت وإلا جلست أيماً! قال: فإن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر قتب أن لا تمنعه نفسها، ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعاً إلا بإذنه فإن فعلت جاعت وعطشت ولا يقبل منها، ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع، قالت: لا جرم ولا أتزوج أبداً".(رواه الطبراني)

(کتاب النکاح وما یتعلق بہ،ترغیب الزوج فی الوفاءبحق زوجتہ۔۔۔۔ج:3،ص: 37،ط: دار احیاء التراث) 

فتاوی شامی میں ہے:

"فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها  أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلةً أو غاسلةً لا فيما عدا ذلك.

وفي الرد : (قوله: فيما عدا ذلك) عبارة الفتح: وأما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لا يأذن لها ولا تخرج..." إلخ

(باب المھر،مطلب فی منع الزوجۃنفسھا لقبض المھر،ج:۳،ص:۱۴۵،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"و لیس لها أن تخرج بلا إذنه أصلًا".

(كتاب النكاح،مطلب في السفر بالزوجة،ج:3، ص: 146، ط: سعید) 

2۔نيز سائل کی بیوی کو چاہیے کہ جائز امور میں اپنے شوہر کی اطاعت کرے ،  شوہر جس چیز کا حکم کرے اس کی اطاعت کرے  اور جس چیز سے منع کرے اس سے رک جائے ،بیوی کا کوئی ایسا کام کرنا جس میں شوہر کی اجازت شامل نہ ہو، اس سے حتی الامکان بیوی کو پرہیز کرنا چاہیے، جو عورت شوہر کے نافرمانی کرے ایسی عورت کے بارے میں احادیث مبارکہ میں   سخت وعیدیں آئی ہیں، اور جو عورت شوہر کی فرماں برداری  اور اطاعت کرے اس کی بڑی فضیلت  بیان  کی گئی ہے۔لہٰذا سائل کی بیوی کے لے جائز نہیں کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر بچوں کی پیدائش کسی دوسرے ملک میں کرے۔

3۔سائل کی اہلیہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر بچوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے ، اس کا حق سائل کو ہے،  تاہم بہتر یہ ہے کہ سائل  اپنی بیو ی کو اعتماد میں لے کر بچوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے ۔

4۔گھریلو معاملات اور شادی شدہ زندگی سے متعلق ان امور جن میں سائل اور اس کے سسر کا اختلاف ہو، سائل کی بیوی کو سائل کی بات ماننی چاہیے ۔

حدیثِ مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح»".

(مشکاۃ المصابیح،  باب عشرۃ النساء،ج: 2،ص:280، ط: قدیمی)

ترجمہ:ـ" رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے  تو فرشتہ اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے  رہتے ہیں۔"

(مظاہر حق، 3/358، ط؛  دارالاشاعت)

        ایک اور حدیث مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» . رواه الترمذي".

(مشکاۃ المصابیح،باب عشرۃ النساء،ج:2،ص:281  ، ط: قدیمی)

ترجمہ: "رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔"

(مظاہر حق، 3/366، ط؛  دارالاشاعت)

5۔شوہر کا مذکورہ معاملہ کو درست سمت میں لانے  کے لیے سسرال جانا انتہائی اچھاقدم ہے  ، سسرال والوں کو بھی چاہیے کہ اپنے داماد سے خندہ پیشانی سے ملیں اور صلح صفائی میں ان کا ساتھ دیں ،اور بیوی کو اس سے ملاقات کرنے دیں، تاکہ میاں بیوی آپس میں افہام وتفہیم سے مسئلہ کو حل کرکے خوش گوار زندگی گزاریں ،لیکن اگر سسرال والےسائل کو اپنی بیوی سے  ملاقات نہ کرائیں تو اس وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100657

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں