بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا سفرکا ارادہ ہو اور بیوی کو بھی روزہ رکھنے سے منع کردیا پھر ہمبستری کرلی


سوال

اگر شوہر سفر میں جارہا ہو اور وہ اپنی بیوی کو  بھی روزہ رکھنے سے منع کردے پھر دونوں جماع کرلیں، تو اس صورت میں قضاء لازم ہوگی یا کفارہ بھی آئے گا ؟

اگر میاں بیوی روزے میں کوئی چاکلیٹ کھالیں یا کچھ پی لیں، پھر ہمبستری کریں تو  قضاء لازم ہوگی یا کفارہ بھی آئے گا ؟

جواب

1. واضح رہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت اس وقت ہے  جب سفر شروع ہوچکا ہو، اگر دن میں سفر کرنے کا ارادہ ہو اور صبح صادق کے وقت مقیم ہے تو اس پر روزہ رکھنا ضروری ہے، البتہ اگر روزہ نہیں رکھا تو سخت گناہ گار ہوگا  اور اس ایک دن کی قضا  لازم آئے گی۔

صورتِ  مسئولہ میں میاں بیوی دونوں  نے روزہ نہیں رکھا تھا تو دونوں پر   ایک روزے  کی قضا لازم ہے،  کفارہ نہیں آئے گا۔ البتہ دونوں نے سخت گناہ کا ارتکاب کیا ہے؛  اس لیے توبہ و استغفار کریں۔

2. روزے کی حالت میں جان بوجھ کر ،  کوئی بھی کھانے کی چیز کھانے سے، یا پینے کی چیز پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، نیز بغیر عذر کھانے پینے سے قضا  اور کفارہ دونوں لازم آتے ہیں، صورتِ  مسئولہ میں اگر زوجین نے بغیر عذر کے روزہ توڑا ،  تو دونوں پر قضا  کے ساتھ  کفارہ بھی  لازم  ہوگا ، اور روزہ کا کفارہ  دو مہینے  لگاتار  روزے رکھنا ہے، اگر روزے کی طاقت نہ ہو  تو  ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا  ساٹھ مسکینوں کو ساٹھ صدقۂ فطر کے بقدر  قیمت  دے  دے۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: ولو نوى المسافر الإفطار ثم قدم ونوى الصوم في وقته صح) إن نوى قبل انتصاف النهار؛ لأن السفر لا ينافي أهلية الوجوب ولا صحة الشروع أطلق الصوم فشمل الفرض الذي لا يشترط فيه التبييت والنفل وحيث أفاد صحة صوم الفرض لزم عليه صومه إن كان في رمضان لزوال المرخص في وقت النية ألا ترى أنه لو كان مقيما في أول اليوم ثم سافر لا يباح له الفطر ترجيحا لجانب الإقامة فهذا أولى إلا أنه إذا أفطر في المسألتين لا كفارة عليه لقيام شبهة المبيح ‌وكذا ‌لو ‌نوى ‌المسافر ‌الصوم ‌ليلا ‌وأصبح من غير أن ينقض عزيمته قبل الفجر ثم أصبح صائما لا يحل فطره في ذلك اليوم ولو أفطر لا كفارة عليه وأشار إلى أنه لو لم ينو الإفطار وإنما قدم قبل الزوال والأكل فالحكم كذلك بالأولى؛ لأن الحكم إذا كان الصحة مع نية المنافي فمع عدمها أولى ولأن نية الإفطار لا عبرة بها حتى لو نوى الصائم الفطر ولم يفطر لا يكون مفطرا وكذا لو نوى التكلم في الصلاة ولم يتكلم لا تفسد صلاته كما في الظهيرية۔"

(کتاب الصوم، فصل في عوارض الفطر في رمضان، ج:2، ص:302، ط:دار الكتاب الإسلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما وجوب الكفارة فيتعلق بإفساد مخصوص وهو الإفطار الكامل بوجود الأكل أو الشرب أو الجماع صورة ومعنى متعمدا من غير عذر مبيح ولا مرخص ولا شبهة الإباحة، ونعني بصورة الأكل، والشرب ومعناهما: إيصال ما يقصد به التغذي أو التداوي إلى جوفه من الفم لأن به يحصل قضاء شهوة البطن على سبيل الكمال۔"

(کتاب الصوم، فصل حكم فساد الصوم، ج:2، ص:94، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في الكفارة (قوله: ككفارة المظاهر) مرتبط بقوله وكفر أي مثلها في الترتيب فيعتق أولا ‌فإن ‌لم ‌يجد ‌صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة."

(کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:394، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100792

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں