بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1444ھ 13 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا دوسری بیوی سے رہائش اور اخراجات کا مطالبہ کرنا


سوال

کوئی  شخص اس شرط پر دوسرا نکاح کرے کہ دوسری بیوی کا‌خود کا ذاتی مکان ہو اور وہ برسر روزگار ہو اور ایسا وظیفہ طے کرے جو پہلی بیوی سے کم ہو،کیا اس کے لیے اس شرط کے ساتھ دوسرا نکاح جائز ہے جب کہ وہ عورت اس پر راضی بھی ہے ۔

جواب

شرعاًرہائش اور نان و نفقہ کی ذمہ داری شریعت نے شوہر پر رکھی ہے ، بیوی پر نہیں ، اس لیے استطاعت کی صورت میں دوسری شادی کی اجازت دی ہے، اور شوہر پر بیوی کے لیے رہائش اور کھانے پینے کے انتظام کو لازم کیاہے۔اس لیے کسی شخص کا عورت کو اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ رہائش کا انتظام کرے یا عورت ملازمت کے ذریعہ کماکر کھلائے جائز نہیں ہے۔

البتہ اگر کوئی عوت اپنی مرضی سے ذاتی مکان ہونے کی صورت میں شوہر کو باہمی رہائش کے لیے فراہم کرے تو یہ درست ہے۔

نیز دوسری بیوی کے لیے ایسے اخراجات طے کرنا جو پہلی بیوی کے اخراجات سے کم ہوں اور دوسری بیوی اس پر راضی بھی ہو اس صورت میں نکاح کرنا جائز ہے، تاہم شوہر کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر اس کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان میں برابری کرے، ان میں ہرگز  نا انصافی والا معاملہ نہ کرے،  لہذا دوسری شادی کی صورت میں آدمی کو دونوں بیویوں میں نان ونفقہ میں برابری کرنی چاہیے،حدیث شریف میں ہے جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان عدل نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب مفلوج ہوگی۔ 

روح المعانی ميں ہے :

"والمراد علی جمع القراءات أمرھن رضی اللہ تعالی عنھن بملازمۃ البیوت وھو أمر مطلوب من سائرالنساء، وأخرج الترمذی والبزار عن ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : إن المرأۃ عورۃ فإذا خرجت من بیتھا استشرفھا الشیطان و أقرب ما تکون من رحمۃ ربّھا و ھی فی قعر بیتھا ."

(ج:۱۱،ص:۲۵۳ ،ط: دارالإحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے :

"ولأن النساء أمرن بالقرار فی البیوت فکان مبنی حالھن علی الستر و الیه أشار النبی صلی اللہ علیہ وسلم حیث قال : کیف یفلح قوم تملکھم إمراۃ."

(باب الإمامة، مطلب في شروط الإمامة الكبرى ،ج:۱ ،ص: ۵۴۸،ط:سعید )

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية، دخل بها أو لم يدخل، كبيرةً كانت المرأة أو صغيرةً، يجامع مثلها، كذا في فتاوى قاضي خان. سواء كانت حرةً أو مكاتبةً، كذا في الجوهرة النيرة".

(ج:۱ص:۵۴۴، ط: ماجدية)

وفیہ ایضاً:

"تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك".

(الباب السابع عشر في النفقات ،ج:۱،ص:۵۵۶، ط: ماجدية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144310101554

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں