بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کی طرف سے زکوۃ ادا کرنا


سوال

کیا شوہر بیوی کی طرف سے زکوۃ ادا کرسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ اسی شخص کے ذمہ لازم ہوتی ہے جو نصاب کا مالک ہو،اگر بیوی نصاب کی مالک ہے تو زکوۃ اسی کے ذمہ لازم ہے،البتہ شوہر بیوی کی طرف سے بطور وکیل زکوۃ ادا کرسکتا ہے؛لہذا  صورت مسئولہ میں شوہر کے لئے بیوی کی طرف سے زکوٰۃ کی ادائیگی سے پہلےاس  کے علم میں لانا ضروری ہے،تاکہ بیوی زکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت کر لے ،کیونکہ نیت کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی یا پہلے سےبیوی اجازت دے دے کہ میری طرف سے زکوٰۃ ادا کردیں تو عین موقع پر بتائے بغیر بھی زکوٰۃ دینے سے ادا ہوجائے گی، تاہم ایسا کرنا شوہر پر لازم نہیں،اوراگر بغیر کسی اجازت کے شوہر خود سے زکوۃ ادا کردے توبیوی کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز. ولو دفعها إلى الذمي ليدفعها إلى الفقراء جاز لوجود النية من الآمر هكذا في محيط السرخسي فإن تجدد للموكل نية أخرى بعد الدفع إلى الوكيل قبل دفع الوكيل إلى الفقير كان عما نوى أخيرا حتى لو دفع إليه دراهم يتصدق بها عن زكاة ماله فلم يدفع المأمور حتى نوى الآمر أن يكون عن نذره وقعت عن ذلك كذا في السراج الوهاج۔۔۔۔۔رجل أدى زكاة غيره عن مال ذلك الغير فأجازه المالك فإن كان المال قائما في يد الفقير جاز، وإلا فلا كذا في السراجية۔۔۔۔۔ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية."

( کتاب الزکوۃ،الباب الأول فی تفسیر الزکوۃ،ج:1،ص:171،ط:دارالفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"لو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز لأنها وجدت نفاذا على المتصدق لأنها ملكه ولم يصر تائبا عن غيره فنفذت عليه اھ۔۔۔قال في البحر: ولو تصدق عنه بأمره جاز."

( کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:269،ط:سعید)

وفیه أیضا:

"ولذا لو أمر غيره بالدفع عنه جاز."

( کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:270،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101191

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں