بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کو پردہ کرنے سے روکنا


سوال

میری بیوی میرے بڑے بھائی، چھوٹے بھائی، میرے بہنوئی،اور میرے چچازاد بھائی وغیرہ سے پردہ کررہی ہے،لیکن میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے بھائیوں اور بہنوئی سے پردہ نہ کرے۔

اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ غیر محرم سے  پردہ ایک شرعی حکم ہے،اور غیر محرم کے سامنے عورت پر چہرے کا پردہ لازم ہے،قرآن و حدیث کی  بہت سی نصوص سے چہرے کا پردہ ثابت ہے، خیر القرون میں بھی ازواجِ مطہرات اور صحابیات رضوان اللہ علیہن کو چہرے کے پردے کا حکم تھا اور انہوں نے اس کا بھر پور اہتمام کیا، لہٰذا اس دور میں بدرجہ اولیٰ مؤمن عورتوں کو چہرے کے پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، اور غیر محرم سے مراد ہر وہ شخص ہے جس سے عورت کا نکاح ہوسکتاہو، (مثلاً چچازاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد، خالہ زاد، بہنوئی، نندوئی، دیور وغیرہ) ان سب سے  چہرے کا پردہ کرنا ضروری ہے۔

مذکورہ تفصیل کے بعد اگرآپ کی بیوی  غیر محرم مردوں سے پردہ کرتی ہیں تو  ان کا یہ عمل  شریعت کے حکم کے مطابق   ہے اور آپ کا اپنی بیوی کواس سے روکنا یا منع کرنا جائز نہیں ہے،نہ ہی آپ کی بیوی پر شرعاً آپ کے اس حکم کو ماننا لازم ہے،کیوں کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی بھی اطاعت کرنا جائز نہیں ہے۔

مولانا ادریس کاندھلوی  رحمۃ اللہ علیہ نے{وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ} کے تحت فرمایا ہے :

"عورت کو اپنی یہ زینتِ ظاہرہ (چہرہ اوردونوں ہاتھ ) صرف محارم کے سامنے کھلا رکھنے کی اجازت ہے، نامحرموں کے سامنے کھولنے کی اجازت نہیں، عورتوں کو اس بات کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں کہ وہ سربازار چہرہ کھول کر اپنا حسن وجمال دکھلاتی پھریں، حسن وجمال کا تمام دارومدار چہرہ پر ہے اور اصل فریفتگی چہرے پر ہی ختم ہے، اس لیے شریعتِ مطہرہ نے زنا کا دروازہ بند کرنے کے لیے نامحرم کے سامنے چہرہ کھولنا حرام قراردیا۔"

(معارف القرآن، کاندھلوی ؒ،257/6،ط:مکتبۃ المعارف)

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ.")التحريم:6)

ترجمہ:"اے ایمان والو ! تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔"(بیان القرآن )

تفسیر   روح المعانی میں ہے:

"يا أيها الذين آمنوا ‌قوا ‌أنفسكم و أهليكم نارًا أي نوعًا من النار وقودها الناس و الحجارة تتقد بهما اتقاد غيرها بالحطب، و وقاية النفس عن النار بترك المعاصي و فعل الطاعات، و وقاية الأهل بحملهم على ذلك بالنصح والتأديب،و روي أن عمر قال حين نزلت: يا رسول الله نقي أنفسنا فكيف لنا بأهلينا؟ فقال عليه الصلاة والسلام: تنهوهن عما نهاكم الله عنه وتأمروهن بما أمركم الله به فيكون ذلك وقاية بينهن وبين النار...وأخرج ابن المنذر والحاكم وصححه وجماعة عن علي كرم الله تعالى وجهه أنه قال في الآية: علموا أنفسكم وأهليكم الخير وأدبوهم، والمراد بالأهل على ما قيل: ما يشمل الزوجة والولد والعبد والأمة...واستدل بها على أنه يجب على الرجل تعلم ما يجب من الفرائض وتعليمه لهؤلاء، وأدخل بعضهم الأولاد في الأنفس لأن الولد بعض من أبيه،وفي الحديث «رحم الله رجلا قال: يا أهلاه صلاتكم صيامكم زكاتكم مسكنكم يتيمكم جيرانكم لعل الله يجمعكم معه في الجنة»..، وقيل: إن أشد الناس عذابا يوم القيامة من جهل أهله."

(سورة التحريم آية 6، 4/351، ط:دارالكتب العلمية)

تفسیر مظہری میں ہے:

"يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ‌قُوا ‌أَنْفُسَكُمْ بأداء الواجبات وترك المعاصي وَأَهْلِيكُمْ بالتعليم والتأديب والأمر بالمعروف والنهى عن المنكر."

(سورة التحريم، آية: 6، 9/344، ط رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411100593

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں