بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 رمضان 1442ھ 11 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے اصرار پر بال کٹوانا


سوال

شوہر کے  کہنے پر بال کٹوانے کا کیا حکم ہے؟ اگر میں نہیں کٹواتی تو کہتے  ہیں کہ  تمہاری  وجہ سے گناہ گار ہو رہا ہوں کےتم سج سنور کے بال کٹوا کے رہا کرو، ورنہ غیر محرم عورتوں پہ نظر جاتی ہے اور دل کو  بھاتی ہیں،  پھربار بار نظر بھٹکتی  ہے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں شوہر کا مطالبہ غیر شرعی ہے  جسے ماننا لازم نہیں ہے، بلکہ ماننے میں آپ گناہ گار ہوں گی،  اگر آپ شرعی پابندیوں کا خیال کریں، پھر بھی شوہر گناہوں میں مبتلا ہو تو اس کا گناہ اور وبال آپ کے شوہر پر ہے۔ تاہم جائز حدود  میں  رہتے  ہوئے  آپ کو شوہر کے لیے زیب و زینت اختیار کرنی چاہیے؛ تاکہ  شوہر بھی  گناہ سے  بچے۔

سنن الترمذي ت شاكر (4 / 209):

"عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره ما لم يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية فلا سمع عليه ولا طاعة»."

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  مسلمان پر سننا اور  ماننا واجب ہے خواہ  وہ اسے پسند کرے یا ناپسند کرے بشرطیکہ اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے،  اور اگر نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا واجب ہے۔ اور نہ ہی اطاعت کرنا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200739

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں