بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

شوہر چار سال سے لاپتہ ہو، تو کیا طلاق ہوجاتی ہے؟


سوال

اگر شوہر چار سال سے لاپتہ ہو، تو کیا طلاق ہوجاتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی عورت کے شوہر کی گمشدگی کو چار سال یا اس سے زائد  عرصہ گزرجاۓ، تو  شوہر کے صرف غائب ہونے کے سبب خود بخود طلاق واقع نہیں ہوتی،بلکہ بدستور دونوں کا نکاح برقرار رہتا ہے، البتہ ایسی صورت میں اگر  عورت کے لیے  خرچہ کا انتظام نہ ہو، یا عورت کا پاک دامنی کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن نہ ہو، اور اس کا معصیت و گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو  اور عدالت اور پولیس   کی ہر قسم کی کوشش کے باوجود بھی  شوہر نہ مل پایا ہو، تو ایسی شدید ضرورت کے وقت  قضاء علی الغائب درست ہے، بہتر یہ ہے مسلمان جج   غائب  شوہر کی طرف سے وکیل  قائم کرکے اس پر فیصلہ کرے۔

طریقہ کار  یہ ہوگاکہ  عدالت میں جاکر مسلمان قاضی کے سامنے عورت اپنے غائب شوہر  کے ساتھ نکاح کو دو گواہوں کے ذریعے ثابت کرے، پھر اپنے شوہر کا غائب ہونا ثابت کرے، نیز یہ بھی ثابت کرے کہ  میرا شوہر مجھے کسی قسم کا نفقہ دے کر نہیں گیا، اور نہ ہی فی الحال دے رہاہے، اور نہ ہی نفقہ کا انتظام ہے، اور نہ ہی میں نے نفقہ معاف کیا ہے، اور ان تمام باتوں کو ثابت کرنے کے بعد ان تمام باتوں پر قسم بھی کھاۓ، لیکن اگر نفقہ کا انتظام  تو ہے، مگر عورت کا گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، تو اس بات پر قسم کھاۓ ، پھر حاکم اس غائب شوہر  کے  لیے حکم جاری کرے کہ :" وہ خود حاضر ہوکر بیوی کے حقوق  ادا کرے، یا اپنی بیوی کو اپنے پاس بلالے، یا اپنی بیوی کا کسی بھی  قسم کا انتظام کرے، ورنہ ہم تفریق کردیں گے۔" نیز قاضی یا    عدالت عورت کے احوال دیکھ کر کوئی مدت طے کرےجو ایک ماہ سے کم نہ ہو اگراس مقررہ مدت میں بھی  شوہر نہ آئے یا کسی قسم کا بیوی کے لیے انتظام نہ کرے  تو عدالت   فسخ نکاح کا فیصلہ کردے، عدالت کے فیصلے کے بعدعورت  عدتِ وفات گزارنے کے بعد دوسری جگہ  نکاح کرسکتی ہے۔

البتہ  اگر ایسی عورت کی  دوسری شادی کے بعد  اس کا پہلا شوہر لوٹ آئے تو مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے  پہلے شوہر سے بدستور قائم رہےگا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہو جائے گا؛  اس لیے دوسرے شوہر سے فوراً علیحدگی لازم ہوگی۔ 

 حیلہ ناجزہ میں ہے:

"عورت کی رہائی کے واسطے ۔۔۔۔۔اولاً قاضی کے پاس مقدمہ پیش کرکے گواہوں سے اس غائب کے ساتھ اپنا نکاح ہونا ثابت کرے، پھر یہ ثابت کریں کہ وہ  مجھے نفقہ دے کر نہیں گیا،اور نہ وہاں سے اس نے میرے لیے نفقہ بھیجا، نہ یہاں کوئی انتظام کیا، نہ میں نے نفقہ معاف کیا، غرض نفقہ کا وجوب بھی اس کے ذمے  ثابت کرے، اور یہ بھی کہ وہ اس واجب میں کوتاہی کررہا ہے، ان سب باتوں پر حلف بھی کرے۔۔۔۔ قاضی اس شخص کے پاس حکم بھیجے کہ یا تو خود  حاضر ہوکر اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو، یا اس کو بلالو یا وہیں سے کوئی انتظام کرو ورنہ اس کو طلاق دے دو، اگر تم نے ان باتوں میں سے کوئی  بات نہ کی تو پھر ہم خود تم دونوں میں تفریق کردیں گے، ، اس کے بعد بھی خاوند کوئی صورت نہ کرے تو قاضی ایک مہینے کے مزید انتظار کرنے کا حکم دے اس مدت میں بھی اگر اس کی شکایت رفع نہ ہوئی تو اس عورت کو  اس غائب کی زوجیت سے الگ کردے۔۔۔۔ الخ"

(حکم زوجہ غائب غیر مفقود، تفریق کی صورت اور اس کی شرائط، ص: 77/78، ط: دارالاژاعت)   

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا.

وقال في جامع الفصولين: قد اضطربت آراؤهم وبيانهم في مسائل ‌الحكم ‌للغائب، وعليه ولم يصف ولم ينقل عنهم أصل قوي ظاهر يبنى عليه الفروع بلا اضطراب ولا إشكال فالظاهر عندي أن يتأمل في الوقائع، ويحتاط ويلاحظ الحرج والضرورات فيفتي بحسبها جوازا أو فسادا، مثلا لو طلق امرأته عند العدل فغاب عن البلد، ولا يعرف مكانه أو يعرف، ولكن يعجز عن إحضاره أو عن أن تسافر إليه هي أو وكيلها لبعده أو لمانع آخر، وكذا المديون لو غاب وله نقد في البلد أو نحو ذلك، ففي مثل هذا لو برهن على الغائب، وغلب على ظن القاضي أنه حق لا تزوير، ولا حيلة فيه فينبغي أن يحكم عليه وله، وكذا للمفتي أن يفتي بجوازه دفعا للحرج والضرورات وصيانة للحقوق عن الضياع مع أنه مجتهد فيه، ذهب إليه الأئمة الثلاثة وفيه روايتان عن أصحابنا، وينبغي أن ينصب عن الغائب وكيل يعرف أنه يراعي جانب الغائب ولا يفرط في حقه اهـ وأقره في نور العين

قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لا يجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ ."

(‌‌كتاب القضاء،‌‌فصل في الحبس،414/5، ط: سعيد)

المبسوط للسرخسی میں ہے:ـ 

"وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حياً أنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول: ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر، وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضاً؛ لأنه تبين أنها تزوجت وهي منكوحة، ومنكوحة الغير ليست من المحللات، بل هي من المحرمات في حق سائر الناس."

(كتاب المفقود،37/11، ط: مطبعة السعادة)

فتاوی شامی میں ہے:

"قوله (خلافا لمالك ) فإن عنده تعتد زوجة المفقود عدة الوفاة بعد مضي أربع سنين وهو مذهب الشافعي القديم ۔۔۔ وعند أحمد إن كان يغلب على حاله الهلاك كمن فقد بين الصفين أو في مركب قد انكسر أو خرج لحاجة قريبة فلم يرجع ولم يعلم خبره فهذا بعد أربع سنين يقسم ماله وتعتد زوجته بخلاف ما إذا لم يغلب عليه الهلاك كالمسافر لتجارة أو لسياحة فإنه يفوض للحاكم في رواية عنه وفي أخرى يقدر بتسعين من مولده كما في شرح ابن الشحنة لكنه اعترض على الناظم بأنه لا حاجة للحنفي إلى ذلك أي لأن ذلك خلاف مذهبنا فحذفه أولى وقال في الدر المنتقى ليس بأولى لقول القهستاني لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اھ ۔۔۔ وقد قال في البزازية الفتوى في زماننا على قول مالك وقال الزاهدي كان بعض أصحابنا يفتون به للضرورة."

(کتاب المفقود، مطلب في الإفتاء بمذهب مالك في زوجة المفقود،295/4،ط:سعيد) 

وفیہ ایضا:

"قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لايجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ".

 (كتاب المفقود ،414/1، ط:سعيد)

اعلاء السنن میں ہے: 

" قال الزیلعی: لانه یختلف باختلاف البلاد وکذا غلبة الظن تختلف بإختلاف الأشخاص فإن الملک العظیم إذا انقطع خبرہ یغلب علی الظن فی أدنی مدۃ أنه قدمات ومقتضاہ أنه یجتھدو یحکم القرائن الظاھرۃ الدالة علی موته وعلی ھذا یبتنی مافی جامع الفتاوی حیث قال و إذا فقد فی المملکة فموته غالب فیحکم به کما اذا فقد فی وقت الملاقاۃ مع العدوا ومع قطاع الطریق وما أشبه ذلک حکم بموته لأنه الغالب فی ھذہ الحالات وافتی به بعض مشایخنا وقال أنه افتی به قاضی زادہ صاحب بحر الفتاوی لکن لا یخفی أنه لابد من مدۃ طویلة یغلب علی الظن موته لا بمجرد فقدہ عند ملاقاۃ العدو أوسفر البحر ونحوہ الخ."

(كتاب المفقود ،باب امرأته حتى يأتيها البيان، 45/13، ط: ادارة القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102054

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں