بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

شوہر، تین بیٹے اور چار بیٹیوں میں تقسیمِ ترکہ


سوال

میاں بیوی نے اپنی مشترکہ کمائی سے 5 مرلے کا ایک پلاٹ خریدا۔ جس میں سے ڈھائی مرلے زمین شوہر کے نام ہے اور ڈھائی مرلے بیوی کے نام ان میاں بیوی کے 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں۔ بیوی کا انتقال ہوگیا ہے بیوی کے انتقال کے بعد شوہر نے اپنے نام ڈھائی مرلے زمین فروخت کردی ہے اور دوسری شادی بھی کرلی ہے۔ اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ اول بیوی کے نام جو زمین ہے اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اگر وہ زمین وراثت بنتی ہے تو تقسیم بھی فرمادیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر میاں بیوی نے دونوں کی مشترکہ کمائی سے پانچ مرلے زمین خریدی تھی اور دونوں آدھی آدھی زمین کے مالک تھے تو ایسی صورت میں جو حصہ بیوی کی ملکیت تھی  وہ حصہ بیوی کے انتقال کے بعد  اُس کا ترکہ شمار ہو گا اور اُس کے تمام ورثاء میں تقسیم ہو گا۔

 اولاً اگر بیوی کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اُس کو ادا کیا جائے گا، پھر اگر اُس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اُس کو ایک تہائی میں سے نافذ کیا جائے گا، اس کے بعد مذکورہ زمین اور اس کے علاوہ  دیگر ترکہ کو  چالیس حصوں میں تقسیم کر کے دس حصے شوہر کو، چھ چھ حصے ہر ایک بیٹے کو اور تین تین حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی فیصد کے اعتبار سے پچیس فیصد شوہر کو، 15 فیصد ہر ایک بیٹے کو اور 7 اعشاریہ 5 فیصد ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200974

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں