بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

شوگر کے مرض میں مبتلا شخص کے لیے روزہ رکھنے کا حکم


سوال

میں شوگر کا مریض ہوں ، مجھے ڈاکٹر نے روزے نہ رکھنے کا مشورہ دیا ، اس  لیے کہ میری شوگر کم ہوجاتی ہے ، تو کیا ڈاکٹر کے کہنے کی وجہ سے میں روزہ چھوڑسکتا ہوں یا نہیں ؟اور اگر چھوڑسکتا ہوں تو پھر فدیہ کیسے ادا کیا جائے گا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مشورہ دینے والا ڈاکٹر اگر دیانتدار ہے اور روزہ کی عظمت واہمیت کوسمجھتا ہے تو اگر ایسے  دین دار  ماہر ڈاکٹر نے منع کیا ہے ،اور یہ کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں روزہ رکھنا سائل کی صحت کے لیے خطرہ کا باعث ہے تو ایسی صورت میں سائل کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے ، پھر جب روزہ رکھنے  کی طاقت ہوتو قضا کرے ، نیز اگر ان فوت شدہ روزوں کی قضا سردیوں میں دن مختصر ہونے  کی بناء پر ممکن ہو تو فدیہ نہ دے ، بلکہ سردیوں میں ان گرمیوں کےروزوں کی قضاء کرے اور فدیہ نہ دے ، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر روزوں کا فدیہ ادا کرے ، جو ہر ایک روزہ کا فدیہ ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا کم از کم ایک صدقہ فطر کی مقدار ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

" المريض ‌إذا ‌خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق."

(كتاب الصوم ، الباب الخامس في الاعذار التي تبيح الافطار ، ج  :  1 ص : 207 ط : رشيديه)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144309100101

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں