بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

شوگر کے مریض کے لیے روزے کا حکم


سوال

 ایک شخص جس کی عمر تقریبًا  52  سال ہے اور وہ 20 سال سے شوگر کا مریض ہے، اور اس نے اب تک بوجہ شوگر کبھی روزہ نہیں چھوڑا، لیکن اب وہ اگر تین چار گھنٹے تک کچھ نہ کھاۓ تو اس کو شدید بھوک محسوس ہوتی  ہے اور وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا،  اب از روۓ شریعت اسے روزے کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب

انسولین لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛ لہذا اگر شوگر کا مریض روزے میں انسولین لگالے جس کی وجہ سے شوگر کنٹرول میں رہے تو اسے روزہ رکھنا چاہیے، لیکن اگر  انسولین لگانے سے  بھی شوگر کنٹرول نہیں رہتی، بلکہ کچھ کھانا بھی ضروری ہوتا ہے اور  وہ  اس قدر تکلیف میں مبتلا ہو کہ بھوک برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت بالکل ختم ہوچکی ہو  تو وہ کسی ماہر دین دار ڈاکٹر کے مشورے کے بعد روزہ چھوڑ سکتا ہے، اور اگر ڈاکٹر  کی رائے یہی ہے کہ مستقبل میں بھی اس کی صحت کی بحالی کی توقع نہیں ہے تو اس صورت میں اس کو ہر ہر روزے کے عوض میں فدیہ ادا کرنا پڑے گا جس کی مقدار صدقہ فطر (پونے دو کلو گندم، یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت) کے برابر ہے۔ لیکن اگر یہ شخص فدیہ دینے کے بعد دوبارہ صحت یاب ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر ہوگیا (مثلًا سردی کے دنوں میں روزے کی قضا پر قادر ہوگیا) تو اس پر روزوں کی قضا رکھنا لازم ہوگا، اور ادا کیا گیا فدیہ نفلی صدقے میں تبدیل ہوجائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں