بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کو جلسوں میں لے جانا


سوال

میں ایک ٹیکسی ڈرائیو ہوں اور رینٹ پر گاڑی چلاتا ہوں،  بعض دفعہ ایک شیعہ عالم جلسوں میں جانے  کے لیے میری گاڑی رینٹ پر لیتاہے اور  میں اس کو کرایے کے عوض لے کر کے جاتا ہوں ۔

اب میرے مندرجہ ذیل چند سوالات ہیں:

کیا اس شیعہ عالم کو مجلسوں میں لے جانا جائز ہے یا نہیں؟

کیا اس شیعہ عالم کو  کرائے پر مجلسوں  میں لے جانے کی صورت میں میری آمدنی پر کوئی فرق  پڑے گا یا نہیں ؟

اگر اس شیعہ عالم کے گھر والوں کو کسی اور کام  کے لیے کہیں لے جاؤں تو اس کا کیا حکم ہے ؟

اگر کوئی شیعہ آدمی کہیں جانے  کے لیے میری گاڑی رینٹ پرلے اور میں نہ جاؤں بلکہ کسی دوسرے ڈرائیور کو کہہ دوں کہ اس کو لے جاؤ اور اس پر میں اس سے کمیشن لوں  تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

شیعہ کو  بطور سفر کرایہ پر  کہیں بھی لے جایا جاسکتا ہے، اسی طرح ٹیکسی پر کسی اور کے ذریعہ پہونچانا بھی درست ہے، البتہ اگر شیعہ کی قربت کی وجہ سے فسادِ عقیدہ کا خطرہ ہو تو نہ لے جانا بہتر ہوگا نیز افضل یہ ہے کہ اختیار ہونے کی صورت میں شیعہ کے ساتھ معاملہ نہ   کیا جائے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

’’ لا بأس بأن يكون بين المسلم و الذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية‘‘.

 ( الھندیۃ. ج: 5، ص:348، ط : دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144503102098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں