بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شرکت میں عمل کرنے والے کا منافع زیادہ مقرر کرنا


سوال

دو سگے بھائیوں کا برابر (50/50)کاحصہ داری  کا مشترکہ کا روبارتھا، ایک بھائی کا قضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا ہے ، ان کی بیوی سے ایک بیٹی اور دوسری بیوی سے ایک بیٹاہے ۔ ایک بیوی اور ان کی بیٹی کو شرع کے ، قانون اور تسلی کے عین مطابق ان کا تمام واجب الادا حصہ دے دیا گیا تھا ، اس ادائیگی کے بعد دوسری بیوی اور ان کے بیٹے کا کاروبار اور جائیدا د میں  بقدر حساب شراکتی حصہ موجود ہے جسے قانونی دستایزی شکل دی جارہی ہے ۔ 

مرحوم بھائی کا بیٹا کاروبار اور اس کی متقاضی محنت میں بہت کم دلچسپی لیتا ہے اور کاروبار کے روز مرہ معمولات اور انتظام میں نہ ہونے کے برابر شریک ہوتا ہے ، جبکہ دوسرے بھائی کا بیٹا پینتیس سال سے زیادہ عرصہ سے کاروبار میں شریک ہے اور دلچسپی اور جانفشانی سے شریک ہے ، اور اب چچا کے انتقال کے بعد  زیادہ ذمہ داری اور انہماک کے ساتھ کام میں لگ گیا ہے ۔ 

سوال یہ ہے کہ جبکہ سب ورثاء کے کاروبار اور متعلقہ جائیداد وں میں شرح اور قانون کے مطابق ملکیتی حصے لکھے جارہے ہیں ، تو کیا زیادہ فعال بیٹے کو کچھ اضافی نفع (working partner) کی حیثیت سے بھی دینا جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب کہ سائل اپنی شراکت کے معاملہ کو قانونی شکل دے رہا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اس سے قبل شراکت سے متعلق شرعی شرائط وضوابط  کو جان لے :

کاروبار میں شرکت کے لیے ضروری ہے کہ وہ کاروبار حلال ہو نیز  اس حلا ل کاروبار کی شراکت میں نفع ، حاصل ہونے والے منافع کی تقسیم    فیصدیا حصص کے اعتبار سے ہو  ، مثلاً نفع دونوں شریکوں کے درمیان آدھا آدھا ہو، یا کسی ایک فریق کے لیے ساٹھ فیصد اور دوسرے کے لیے چالیس فیصد یادونوں کے سرمایہ کے بقدرنفع تقسیم ہو ۔

 اگر دونوں شریک کام کرتے ہوں  اور ایک شریک زیادہ محنت کرتاہو یا کاروبار کو زیادہ وقت دیتاہویا ایک شریک کام کرتاہے دوسرا شریک کام ہی نہیں کرتا تو اس کے لیے نفع کی شرح باہمی رضامندی سے بڑھانادرست ہے۔لیکن جو شریک کام ہی نہیں کرتا اس کے لیے نفع کا تناسب اس کے سرمائے سے زیادہ مقرر کرنا جائز نہیں ہے ۔

کسی بھی  کاروبار میں رقم لگاکر نفع کو متعین کردینا مثلاً یہ کہناکہ ہر  مہینے یا اتنی مدت بعد مجھے نفع کے طور پر اتنی رقم دی جائے، یا انویسمنٹ کا اتنا فیصد دیا جائے  ،یہ طریقہ درست نہیں ہے۔یعنی متعین نفع مقرر کر کے شراکت داری کرنا شرعاً ناجائز  ہے۔

نیز جس طرح دونوں شریک کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع میں شریک ہوتے ہیں اسی طرح نقصان میں بھی شریک ہوں گے،  یعنی سرمائے کے تناسب سے ہر ایک شریک نقصان میں بھی شریک ہوگا۔ 

مذکورہ تفصیل کی رو سے  صورتِ مسئولہ میں جو شریک زیادہ محنت یا عمل کرتا ہے تو باہمی رضامندی سے اس کے لیے سرمائے سے زائد نفع لینا جائز ہے۔

بدائع الصنائع  میں ہے:

"(ومنها): أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.

(ومنها): أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح."

(كتاب الشركة، فصل فى بيان شرائط انواع الشركة، ج:6، ص:56، ط:دارالكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو شرطا العمل عليهما جميعًا صحت الشركة، وإن قل رأس مال أحدهما وكثر رأس مال الآخر واشترطا الربح بينهما على السواء أو على التفاضل فإن الربح بينهما على الشرط، والوضيعة أبدًا على قدر رءوس أموالهما، كذا في السراج الوهاج. وإن عمل أحدهما ولم يعمل الآخر بعذر أو بغير عذر صار كعملهما معًا، كذا في المضمرات. ولو شرطا كل الربح لأحدهما فإنه لايجوز، هكذا في النهر الفائق.

اشتركا فجاء أحدهما بألف والآخر بألفين على أن الربح والوضيعة نصفان فالعقد جائز و الشرط في حق الوضيعة باطل، فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا، وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الشركة، الفصل الثاني في شرط الربح، ج:2، ص:320، ط:مكتبه رشيديه)

بدائع الصنائع ميں ہے :

’’( وأما ) عندنا فالربح تارة يستحق بالمال وتارة بالعمل وتارة بالضمان على ما بينا ، وسواء عملا جميعا أو عمل أحدهما دونالآخر ، فالربح بينهما يكون على الشرط ؛ لأن استحقاق الربح في الشركة بالأعمال بشرط العمل لا بوجود العمل ، بدليل أن المضارب إذا استعان برب المال استحق الربح ، وإن لم يوجد منه العمل ؛ لوجود شرط العمل عليه ، والوضيعة على قدر المالين ؛ لما قلنا ، وإن شرطا العمل على أحدهما ، فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح ؛ جاز ، والربح بينهما على الشرط فيستحق ربح رأس ماله بماله والفضل بعمله ، وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز ؛ لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال .ولا عمل ولا ضمان ؛ وقد بينا أن الربح لا يستحق إلا بأحد هذه الأشياء الثلاثة وإن كان المالان متفاضلين ، وشرطا التساوي في الربح فهو على هذا الخلاف أن ذلك جائز عند أصحابنا الثلاثة إذا شرطا العمل عليهما ، وكان زيادة الربح لأحدهما على قدر رأس ماله بعمله ، وأنه جائز ، وعلى قول زفر لا يجوز ولا بد أن يكون قدر الربح على قدر رأس المالين عنده ، وإن شرطا العمل على أحدهما فإن شرطاه على الذي رأس ماله أقل ؛ جاز ، ويستحق قدر ربح ماله بماله والفضل بعمله ، وإن شرطاه على صاحب الأكثر لم يجز ؛ لأن زيادة الربح في حق صاحب الأقل لا يقابلها مال ولا عمل ولا ضمان .‘‘

(بدائع الصنائع،فصل فی بیان شرائط جوازانواع الشرکۃ،ج۔۶،ص۔۶۲،ط،دارالکتب العلمیۃ)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144303100524

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں