بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شرکت میں شرکاء میں کسی ایک کی طرف سے نقد رقم کا نہ ہونا / شرکت میں نقصان کی تقسیم کا تناسب


سوال

ہم موٹر سائیکل لوازمات کی تجارت  کرتے ہیں، دکان کرائے  پر ہے، ہم تین ساتھی ہیں، زید (عمر )،  خالد (فرّ خ ) اور  بکر (مجتبیٰ) ۔  ان میں سے  بکر اور   زید نے فنڈز لگائے ہیں ، جب کہ  خالد نے کچھ نہیں لگایا،  ہم تینوں شراکت دار اس  دکان میں کام کررہے ہیں، ہم منافع کو فیصد کی بنیاد  پر تقسیم کرتے ہیں، منافع اس فارمولے کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے (فروخت-فروخت شدہ سامان کی قیمت-اخراجات)، سوال یہ ہے کہ :

کیا یہ شراکت درست ہے؟ اگر نہیں تو صحیح طریقہ کیا ہے؟ براہ کریم تمام ممکنہ طریقہ بتائیں۔

اگر ہم شراکت کو ختم کرتے ہیں تو  اس وقت، دکان ، اسٹاک  چالیس فیصد نقصان پر فروخت ہوگا،تو اس نقصان کو کیسے تقسیم کیا جائے ؟

جواب

1۔ صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ  تین لوگوں  میں  جن دو  ( زید اور  بکر) نے   کاروبار میں نقد رقم لگائی ہے، ان دو کے درمیان شرکت صحیح ہوگئی، اور  جس (یعنی  خالد) نے نقد رقم نہیں لگائی تھی، وہ اس کاروبار میں شریک  نہیں ہوا،  لہذا  زید اور  بکر فیصد کے اعتبار سے طے شدہ  نفع اور سرمایہ کے بقدر   نقصان میں شریک ہوں گے ، اور  خالد کو اس کام کی اجرت مثل (یعنی اس طرح کام کرنے والے کی جس قدر مارکیٹ میں اجرت ہوتی ہے، وہ ) ملے گی۔

تیسرے شخص  یعنی  خالد کو بھی کاروبار میں شریک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دوبارہ عقد کرکے  اس کی طرف سے بھی  نقد رقم شامل کی جائے گی، تاکہ تینوں شریکوں کا سرمایہ شامل ہوجائے، چوں کہ سب شرکاء کی محنت شامل ہے، اس لیے سب   باہم رضامندی سے فیصد کے اعتبار سے   کم یا  زیادہ   منافع طے  کرسکتے ہیں، باقی  نفع کی تقسیم کا سوال میں ذکر کردہ طریقہ  ( کہ اصل سامان کی قیمت اور اخراجات کو نکال کر  نفع کو  طے شدہ فیصد کے حساب سے تقسیم کرنا)  شرعاً درست ہے۔

2۔شرکت ختم کرنے کی صورت میں اگر  چالیس فیصد نقصان ہو تو وہ دونوں شریک ( زید اور  بکر) پر ان کے سرمایہ کے حساب سے تقسیم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا تصح مفاوضة وعنان) ذكر فيهما المال وإلا فهما تقبل ووجوه (بغير النقدين، والفلوس النافقة والتبر والنقرة) أي ذهب وفضة لم يضربا (إن جرى) مجرى النقود (التعامل بهما) وإلا فكعروض

قوله: بغير النقدين) فلا تصحان بالعرض ولا بالمكيل والموزون والعدد المتقارب قبل الخلط بجنسه، وأما بعده فكذلك في ظاهر الرواية فيكون المخلوط شركة ملك وهو قول الثاني.وقال محمد: شركة عقد، وأثر الخلاف يظهر في استحقاق المشروط من الربح، وأجمعوا أنها عند اختلاف الجنس لا تنعقد نهر (قوله: والفلوس النافقة) أي الرائجة، وكان يغني عنه ما بعده من التقييد بجريان التعامل والجواز بها هو الصحيح؛ لأنها أثمان باصطلاح الكل فلا تبطل ما لم يصطلح على ضده نهر (قوله: والتبر والنقرة) في المغرب: التبر ما لم يضرب من الذهب والفضة والنقرة القطعة المذابة منهما. اهـ. زاد في المصباح: وقيل الذوب هي التبر، فما ذكره الشارح يصلح تفسيرا لهما لأخذ عدم الضرب في كل منهما لكن الفرق بينهما أن التبر لم يذب في النار تأمل.

(قوله: إن جرى التعامل بهما) قيد بذلك زيادة على ما في الكنز ليوافق الرواية المصححة كما أوضحه في البحر."

 (4 / 310، کتاب الشركة، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لو كان المال منهما في شركة العنان والعمل على أحدهما إن شرطا الربح على قدر رءوس أموالهما جاز ويكون ربحه له ووضيعته عليه...وإن قل رأس مال أحدهما وكثر رأس مال الآخر واشترطا الربح بينهما على السواء أو على التفاضل فإن الربح بينهما على الشرط، والوضيعة أبدا على قدر رءوس أموالهما، كذا في السراج الوهاج."

(كتاب الشركة،الباب الثالث في شركة العنان،الفصل الثاني في شرط الربح والوضيعة وهلاك المال2/ 320، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100490

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں