بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

شرکت فاسدہ کی ایک صورت


سوال

 ایک شخص نے کسی سے ایک دن کے لئے ایک بڑی زمین پچیس ہزار روپے کرایہ پر لی، اس زمین پر وہ مختلف کمپنیوں کی گاڑیاں لے کر ڈس پلے کے طور پر رکھتا ہے، اس سے کمپنی کے پروڈکٹ کی تشہیر ہوتی ہے اور کمپنی اس شخص کو اس کا معاوضہ بھی دیتی ہے، دن گزرنے پر وہ شخص کمپنی کی گاڑیاں کمپنی کو واپس کردیتا ہے اور معاوضہ وصول کرلیتا ہے، اس شخص کے ایک دوست نے کہا کہ میں پچیس ہزار کرایہ اپنی طرف سے دے دوں گا، اس شرط پر کہ تم کو جو نفع ہوگا اس کا چالیس فیصد مجھ کو دینا، اس شخص نے اس کو منظور کرلیا کیا یہ معاملہ درست ہے؟ درست نہیں ہے تو جواز کی کوئی صورت ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کے دوست کا مذکورہ زمین کا کرایہ دینااور اس کے عوض   نفع میں 40 فیصد  لینا  شرعا درست نہیں ہے ؛ اس لیے کہ یہ شرعا شرکت   کی جائز صورتوں میں سے کسی بھی صورت کے تحت داخل نہیں ہے ، کمپنی کی پروڈکٹ کی تشہیر کرنے والے کو کمپنی جو معاوضہ دے رہی ہے وہ خالص اس کی اپنی محنت کی اجرت ہے ،یہ اجرت اسی کو ملے گی ، اس اجرت میں دوسرے شخص کا کوئی حق نہیں ہے ،دوسرے شخص کو صرف زمین کاکرایہ جو اس نے ادا کیا تھاوہی ملے گا ۔

اگر مذکورہ شخص کا دوست نفع میں شریک ہونا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ بھی کمپنی کی پروڈکٹ کی تشہیر کرےاور اس عمل ومحنت اور کرایہ کی ادائےگی میں شریک ہوجائے ،یعنی اپنے دوست کے ساتھ کام کرے ،کمپنی کی طرف سے جو معاوضہ ملے اس کو  حسب شرط آپس میں تقسیم کرلیں  یا کم از کم دونوں کا سرمایہ شامل ہو اور شراکت کا معاملہ کریں، خواہ محنت ایک کرے یا دونوں، البتہ اگر  محنت ایک کرے تو محنت کے عنوان سے کوئی الگ سے نفع طے کرنے کا جواز نہیں ہوگا۔

وفي الفتاوى الهندية :

"ولو دفع دابة إلى رجل ليبيع عليها البز والطعام على أن الربح بينهما كانت الشركة فاسدة بمنزلة الشركة بالعروض، وإذا فسدت كان الربح لصاحب الطعام والبز ولصاحب الدابة أجر مثلها، والبيت والسفينة في هذا كالدابة، هكذا في فتاوى قاضي خان....ولو أن قصارا له أداة القصارين وقصارا له بيت اشتركا على أن يعملا بأداة هذا في بيت هذا على أن الكسب بينهما نصفان كان ذلك جائزا، كذا في السراج الوهاج، وكذلك كل حرفة، كذا في فتاوى قاضي خان، ولو كان من أحدهما أداة القصارين ومن الآخر العمل فاشتركا على هذا فالشركة فاسدة ويجب على العامل أجر مثل الأداة والربح للعامل، كذا في الخلاصة."

(كتاب الشركة,الباب الخامس في الشركة الفاسدة,2/ 334ط:دار الفكر)

وفيه أيضا:

"(وأما شركة الأعمال) فهي كالخياطين والصباغين، أو أحدهما خياط والآخر صباغ أو إسكاف يشتركان من غير مال على أن يتقبلا الأعمال فيكون الكسب بينهما فيجوز ذلك، كذا في المضمرات."

(كتاب الشركة,الباب الرابع في شركة الوجوه وشركة الأعمال,2/ 328ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144402101703

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں