بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شراکت میں متعین نفع لینا


سوال

ایک شخص نے کسی آدمی کے دسمبر میں دس لاکھ روپے دینے ہیں،  اس کے پاس ستمبر میں نو لاکھ کہیں سے آتے ہیں،  وہ اپنے دوست کو  گیارہ لاکھ دیتا اور اسے کہتا ہے کہ تم یہ رقم اپنے کاروبار میں لگاؤ اور دسمبر میں بارہ لاکھ دے دو،  کیا وہ زائد ایک لاکھ سود شمار ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کاروبار میں رقم لگا کر نفع حاصل کرنے کے جائز ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ  نفع کے ساتھ  نقصان میں بھی شرکت ہو  اور  نفع بھی فکس رقم کی صورت میں مقرر نہ ہو ، بلکہ مضاربت (انویسمنٹ) میں  نفع کی تعیین نفع کے فیصد کے اعتبار سے کرنا ضروری ہے، مثلاً: جتنا نفع حاصل ہوگا اس نفع کا 70 فیصد کام کرنے والے کا اور 30 فیصد انویسٹر کا ہوگا۔ اگر نفع کی تعیین ایک مقرر  رقم کے ذریعے کی جائے، یا نقصان کی شرط کام کرنے والے ہی پر لگائی جائے، یا کاروبار ہی نہ ہو، بلکہ محض رقم دے کر نفع لیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے، بلکہ یہ قرض دے کر اس پر نفع حاصل کرنا ہے، اور قرض دے کر اس پر مشروط نفع حاصل کرنا سود ہے، اور سود کا لینا، دینا، اس کا معاملہ کرنا ناجائز، حرام اور گناہِ  کبیرہ ہے۔

لہذا مذکورہ شخص کا اپنے دوست کو گیارہ لاکھ دے کر اس سے بارہ لاکھ متعین کر کے لینا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ 

بدائع الصنائع  میں ہے:

"(ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح".

(6/ 59، کتاب الشرکة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ط: سعید)

 فقط والله  اعلم


فتوی نمبر : 144203200473

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں