بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

شعر غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ کا پس منظر


سوال

غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ

مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ 

اس شعر کا ترجمہ کیا ہے؟اور یہ شعر کس نے کہا تھا ؟ اور کس پس منظر میں کہا تھا؟   اور  اس كا مفہوم كيا هے ؟ 

جواب

آپ کا پوچھا گیا شعر مختلف کتب احادیث میں  اپنے پس منظر کی وضاحت ساتھ منقول ہے،  مسند احمد (المتوفی: 241ھـ)کا حوالہ ملاحظہ فرمائیے   :

"عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ أَقْوَامٌ هُمْ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا»، قَالَ: فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَرْتَجِزُونَ: غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ."

"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ پھر  اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے: کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔"

(مسند أحمد (19/ 83) برقم (12026)، ط/ مؤسسة الرسالة)

روايات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہے یہ شعر  اشعری قبیلہ  (جس سے ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں)نے مدینہ کے قریب پہنچ کرخوشی کے باعث  بلند آواز سے کہے تھے، اور ان الفاظ کا مفہوم مذکورہ ترجمہ سے بالکل واضح ہے کہ حضور صل اللہ علیہ وسلم اور ان کی مبارک جماعت ِصحابہ سے عن  قریب ہونے والی ملاقت  کے شوق کے اظہار میں  بلند آواز  سے ان سے ہونے اس ہونے والی ملاقات کو  بیان کیا جا رہا ہے ۔  فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408100992

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں