بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

شیعہ فیملی کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حکم


سوال

ایک فیملی ہے جوکہ سنّی مسلک سے تعلق رکھتی تھی، اچانک وہ پوری فیملی شیعہ ہوگئی، اب اس فیملی سے تعلق رکھنا یعنی ان کے پاس آنا جانا، ایک دوسرے کی  تقریبات میں جانا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں میں مذکورہ فیملی کے  راہِ حق  چھوڑنے  کے بعد ان سے فوراً تعلق ختم کرنے کی بجائے یہ دیکھا جائے کہ ، اگر غالب گمان یہ ہو کہ وہ  باطل  عقائد سے توبہ تائب ہوکر  حق کی طرف دوبارہ آجائیں گے تو ان کو سمجھایا جائے، حکمت اور مصلحت سے  حق سے متعلق ان کے جو شبہات  ہیں وہ دور کرنے چاہییں، اور  ان کو دوبارہ  حق کی ترغیب  دینی چاہیے، تاہم اگر وہ  باطل کا علم ہوتے  ہوئے بھی اس پر خاموش اور  مطمئن  ہے، توبہ تائب نہیں ہوتےتو  دیگر لوگوں کی عبرت کے لیے ان سے قطع تعلق کیاجائے، ان کی تقریبات میں شرکت سے اجتناب کیا جائے، تا وقتیکہ وہ تائب ہو کر  راہِ حق قبول کر لیں،کیوں کہ اس کے باوجودایسے لوگوں کے ساتھ  تعلق قائم رکھ کر  ہم دردی کرنا   باطل عقائد اختیار کرنے  میں  معاونت اوران کی حوصلہ افزائی ہے۔

فتح الباری شرح صحیح البخاری  میں ہے:

" أراد بهذه الترجمة بيان الهجران الجائز لأن عموم النهي مخصوص بمن لم يكن لهجره سبب مشروع فتبين هنا السبب المسوغ للهجر و هو لمن صدرت منه معصية فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها."

(قوله باب ما يجوز من الهجران لمن عصى، 10/497، ط:دارالمعرفۃ بیروت)

أحكام القرآن للجصاص میں ہے:

"ثم قال تعالى : {فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} يعني : بعدما تذكر نهي الله تعالى لا تقعد مع الظالمين .

وذلك عموم في النهي عن مجالسة سائر الظالمين من أهل الشرك و أهل الملة لوقوع الاسم عليهم جميعًا، و ذلك إذا كان في ثقة من تغييره بيده أو بلسانه بعد قيام الحجة على الظالمين بقبح ما هم عليه ، فغير جائز لأحد مجالستهم مع ترك النكير سواء كانوا مظهرين في تلك الحال للظلم والقبائح أوغير مظهرين له ؛ لأن النهي عام عن مجالسة الظالمين ؛ لأن في مجالستهم مختارا مع ترك النكير دلالة على الرضا بفعلهم".

(سورۃ الانعام، باب النهي عن مجالسة الظالمين، ج:3، ص:3، ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101951

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں