بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1443ھ 25 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

شہید کے لیے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا


سوال

شہید کے لیے "اناللہ وانا الیہ راجعون" بولنا کیسا ہے؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ شہادت اگرچہ مسلمان کے  لیے ایک اعزاز  ہے ،  لیکن  چوں کہ اس میں یہ پہلو بھی ہے کہ ایک قیمتی مسلمان سے امتِ مسلمہ   محروم ہوگئی   خصوصًا اس کے  اہلِ  خانہ کے  لیے یہ غم کی گھڑی ہے،  اس لحاظ سے یہ ایک مصیبت ہے جس پر صبر کا حکم دیا گیا ہے، بلکہ قرآنِ مجید کے اسلوب سے تو معلوم ہوتاہے کہ مذکورہ دعائیہ کلمات "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" کا نزول  بطورِ خاص شہداء کی جدائی کے صدمے کے موقع پر تسلی کے  لیے ہوا ہے،  چناں چہ ارشاد ہے:

{وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّاتَشْعُرُونَوَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ  وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ }[البقرة:154- 157]

ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مُردوں کی طرح) مُردے ہیں، بلکہ وہ تو (ایک ممتاز) حیات کے ساتھ زندہ ہیں، لیکن تم (ان حواس سے اس حیات کا) ادراک نہیں کرسکتے، اور (دیکھو) ہم تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف سے اور فاقہ سے اور مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے اور آپ ایسے صابرین کو بشارت سنادیجیے ۔(جن کی یہ عادت ہے) کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو (مع مال واولاد حقیقتہ) اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں اور ہم سب (دنیا سے) اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانے والے ہیں۔ ان لوگوں پر (جدا جدا) خاص خاص رحمتیں بھی ان کے پروردگار کی طرف سے ہوں گی اور (سب پر بلاشتراک) عام رحمت بھی ہوگی اور یہی لوگ ہیں جن کی (حقیقت حال) تک رسائی ہوگئی۔

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144211200205

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں