بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

شفان نام رکھنے کا حکم


سوال

 شفان نام رکھنا کيسا ہے؟

جواب

شَفَّان کا معنی ہے: بارش والی ٹھنڈی ہوا، مذکورہ معنیٰ کے اعتبار سے بچے کا نام شفان رکھنا درست ہے، تاہم بچے کا نام مذکورہ نام پر رکھنے کے بجائے اگر انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام پر رکھاجائے تو بہتر وافضل ہے، ہماری ویب سائٹ پر اسلامی ناموں کے لحاظ سے مستقل عنوان موجود ہے وہاں سے آپ اپنی مرضی کے مطابق پسندیدہ نام کا انتخاب کرسکتے ہیں ۔

تاج العروس من جواہر القاموس میں ہے:

"(و) الشفان : الريح الباردة مع مطر ، يقال : هذه غداة ذات شفان ، أي : ذات برد وريح ، وكذا قولهم : إن في ليلتنا هذه شفانا شديدا ، أي : بردا ، قال : إذا اجتمع الشفان والبلد الجدب وقال عدي بن زيد العبادي : ( في كناس ظاهر يستره من عل الشفان هداب الفنن )  أي : من الشفان ".

(فصل الشين مع الفاء، ش/ف/ف، ج:23، ص:485، ط:دارالهدایة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں