بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

شیشے کے سامنے نماز


سوال

 شیشے کے آگے نماز پڑھنا کیسا  ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نماز میں ان چیزوں کا استقبال(منہ کرنا) ممنوع ہے جس کے استقبال سےا ن اشیاء کی عبادت کا شائبہ پیدا ہوتا ہو مثلًا تصویر ،انسان کا چہرہ وغیرہ ۔شیشہ نہ تو خود ان اشیاء میں سے ہے جن کا استقبال عبادت کا شائبہ پیدا کرے اور نہ اس پر ظاہر ہونے والا عکس (جو کہ شرعًا تصویر کے حکم میں نہیں ہے) عبادت کا شائبہ  پیدا کرتا کیوں کہ  اپنے عکس کی کوئی بھی عبادت نہیں کرتا ؛ لہذا شیشہ کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے، البتہ اگر شیشہ کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں نمازی کا خشوع و خضوع متأثر ہوتا ہو تو پھر اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مکروہ  ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 644):

(وصلاته إلى وجه إنسان) ككراهة استقباله، فالاستقبال لو من المصلي فالكراهة عليه وإلا فعلى المستقبل ولو بعيدا ولا حائل.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 414):

(ولا بأس بأن يصلي وبين يديه مصحف معلق أو سيف معلق) لأنهما لا يعبدان، وباعتباره تثبت الكراهة

(قوله: وباعتباره تثبت الكراهة) قدم المعمول لقصد إفادة الحصر فيفيد الرد على من قال من الناس بالكراهة لأن السيف آلة الحرب والبأس فيكره استقباله في مقام الابتهال، وفي استقبال المصحف تشبه بأهل الكتاب. والجواب أن استقبالهم إياه للقراءة منه لا لأنه من أفعال تلك العبادة، وقد قلنا بكراهة استقباله لذلك.

والحال ابتهال إلى الله تعالى فهي محاربة للشيطان والنفس المخالفة. وعن هذا سمي المحراب.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 654):

تتمة: بقي في المكروهات أشياء أخر ذكرها في المنية ونور الإيضاح وغيرهما: منها الصلاة بحضرة ما يشغل البال ويخل بالخشوع كزينة ولهو ولعب.

فتح الباري لابن حجر (10/ 391):

5959 - حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن أنس رضي الله عنه قال: كان قرام لعائشة، سترت به جانب بيتها، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم: «أميطي عني، فإنه لا تزال تصاويره تعرض لي في صلاتي».

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201556

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں