بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

شیشے کے سامنے نماز پڑھنے کا حکم


سوال

شیشہ کے سامنے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نمازی کے سامنے الماری، کھڑکی یا دیوار میں شیشے لگے ہوئے ہیں اور اس میں نمازی کا عکس نظر آتا ہے تو نماز ہوجائے گی، کراہت نہیں ہوگی؛ کیوں کہ عکس تصویر کے حکم میں نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر اس کی وجہ سے نمازی کی توجہ ہٹ جاتی ہے، یک سوئی اور خشوع وخضوع میں خلل واقع ہوتا ہے تو ایسی صورت میں شیشے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، ایسی صورت میں نماز پڑھتے وقت شیشے پر کپڑا وغیرہ ڈال دیا جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

(تتمة) بقي في المكروهات أشياء أخر ذكرها في المنية ونور الإيضاح وغيرهما: منها الصلاة بحضرة ما يشغل البال ويخل بالخشوع كزينة ولهو ولعب، وذلك كرهت بحضرة طعام تميل إليه نفسه وسيأتي في كتاب الحج قبيل باب القرآن يكره للمصلي جعل نحو نعله خلفه لشغل قلبه.

(ج:1، ص: 654، ط: سعيد)

 فقط  واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200228

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں