بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شیئر مارکیٹ میں پیسے لگانے کا حکم


سوال

شیئر مارکیٹ میں اپنا پیسہ لگانا کیسا ہے؟

جواب

شیئرز کا کاروبار چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1- جس کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت کی جارہی ہو، خارج میں اس کمپنی کا وجود ہو، صرف کاغذی طور پر رجسٹرڈ نہ ہو اور نہ ہی اس کمپنی کے کل اثاثے نقد کی شکل میں ہوں بلکہ اس کمپنی کی ملکیت مین جامد اثاثے بھی موجود ہوں۔

2- کمپنی کا سرمایہ حلال ہو۔

3- کمپنی کا اصل کاروبار جائز ہو، حرام اشیاء کے کاروبار پر مشتمل نہ ہو۔

4- شیئرز کی خرید و فروخت میں، خرید و فروخت کی تمام شرائط کی پابندی ہو۔

5- حاصل شدہ منافع کل کا کل شیئرز ہولڈرز میں تقسیم کیا جاتا ہو، (احتیاطی) ریزرو کے طور پر نفع کا کچھ حصہ محفوظ نہ کیا جاتا ہو۔

6- شیئرز کی خرید و فروخت کے دوران بالواسطہ یا بلاواسطہ سود اور جوے کے کسی معاہدے کا حصہ بننے سے احتراز کیا جاتا ہو۔

اگر شیئرز کے کاروبار میں ان شرائط کی رعایت رکھی جائے تو یہ کاروبار جائز ہے، ورنہ نہیں، بہرصورت بہتر یہی ہے کہ اس کاروبار سے اجتناب کیا جائے، اس لیے کہ مارکیٹ میں ان تمام شرائط کے ساتھ شیئرز کا کاروبار بہت مشکل ہے، اس لیے اجتناب کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

(نوٹ: سوال کا مقصد کچھ اور ہو تو وضاحت کے ساتھ لکھ کر بھیجیں)

صحیح البخاریمیں ہے:

"حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال: الذي حفظناه من عمرو بن دينار، سمع طاوسا، يقول: سمعت ابن عباس رضي الله عنهما، يقول: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم "فهو الطعام أن يباع حتى يقبض"، قال ابن عباس: ولا أحسب كل شيء إلا مثله."

(باب بیع الطعام قبل ان یقبض، ج: ۱، صفحہ: ۲۸۶، ط: قدیمی)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر قال: "لعن ‌رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء."

(كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج: ۳، صفحه: ۱۲۱۹، ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)

البحر الرائق میں ہے:

"قبض كل شیئ وتسليمه يكون بحسب ما يليق به."

(کتاب الوقف، ج: ۵، صفحہ: ۲۴۸، ط: ایچ، ایم، سعید)

وفیہ ایضا:

"ومنها أن یکون المبیع معلوما والثمن معلوما علما یمنع من المنازعة، فالمجهول جهالة مفضیة إلیها غیر صحیح."

(کتاب البیع، ج: صفحہ: ۲۶۰، ط: ایچ، ایم، سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم "نهى عن بيع ما لم يقبض"، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر."

(کتاب البیوع، ج: ۵، صفحہ: ۱۸۰، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101795

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں