بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شہد کو فلٹر کرنا اور اس کے بیچنے کا حکم


سوال

 پلوسه شهد قدرتی طور پر جم جاتا ہے ، لیکن جب اس کو فلٹر کیا جائے تو پھر نہیں جمتا ، پشاور میں دو بندے شہد فلٹر کرتے ہیں ، ( فی کلو 20 روپے اور فی من 800  روپے) ، تاجر لوگ کہتے ہیں کہ وہ بندے اس شہد میں کچھ ملاوٹ کرتے ہیں یعنی چینی یا گلوکوز یا کچھ اور کیمیکل اس میں ڈالتے ہیں ، اتنا تو معلوم ہے کہ کچھ ڈالتے ہیں، کیوں کہ اس کے بعد شہد نہیں جمتا، لیکن یقینی طور پر یہ معلوم نہیں کہ کون سی چیز ڈالتے ہیں ، کیوں کہ نہ کسی کو دکھاتے ہیں اور نہ کسی کو طریقہ بتاتے ہیں ، بس یہی کہتے ہیں کہ ’’ہم بروز محشر ذمہ دار ہیں کہ ہم کوئی نقصان دہ چیز نہیں ڈالتے‘‘۔

یادر ہے کہ فلٹر سے نہ شہد کے وزن میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور نہ اس کا ذائقہ بدلتا ہے اور 20 سال سے ابھی تک نہ کسی کو اس سے نقصان پہنچا ہے ، لوگ بہت شوق سے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں فلٹر شہد درکار ہے، کیوں کہ اس کے بعد جمتا نہیں ہے ۔

۱۔ اب سوال یہ ہے کہ شہد فلٹر کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

۲۔نیز فلٹر شده شهد آگے فروخت کرنا اس طور پر کہ یہ خالص شہد ہے ، جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

۱۔ اگر کسی حلال چیز کے ذریعے سے مذکورہ شہد کو فلٹر کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

۲۔ فلٹر شدہ شہد کو آگے خالص شہد بول کر بیچنا حالاں کہ اس میں کسی چیز کی ملاوٹ کی گئی ہوتی ہے، تو اس کی وجہ سے بیچنے والا دھوکہ اور غرر کی بناء پر گناہ گار ہوگا، تاہم اس کا بیچنا فی نفسہ جائز ہوگا۔

صحیح مسلم میں ہے:

 "عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا."

 (کتاب الإیمان، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: من غشنا فليس منا، ج: 1، ص: 99، ط: مطبعة عيسى البابي الحلبي)

ترجمہ :" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ :جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایاوہ ہم میں سے نہیں ہے ،اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144404101656

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں