بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

شیشے صاف کرنے اور ریت علیحدہ کرنے کے لیے عقدِ استصناع کا حکم


سوال

 ایک شخص دوسرے کے ساتھ استصناع کا معاملہ کرتا ہے، جس کی چند شکلیں درج ذیل ہیں:

۱: صانع مستصنع کو ٹوٹا ہوا شیشہ صاف ستھری حالت میں فراہم کرے گا،نیز صانع ہر رنگ کا شیشہ الگ الگ شکل میں مہیا کرے گا،یہ شیشہ اسکریپ ڈیلرز سے خریدا جاتا ہے،پھر اس کی صفائی ہوتی ہے،پھر لیبر کے ذریعے شیشے کو رنگوں کے اعتبار سے الگ الگ کیا جاتا ہے۔

۲:صانع مستصنع کو ایسی ریت فراہم کرے گا جو شیشہ بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے،اس ریت کو عام دریاؤں والی ریت سے خاص طریقے سے الگ کیا جاتا ہے۔

کیا ان صورتوں پر استصناع ممکن ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کاریگر یا کارخانے کو آرڈر دے کرایسا مال بنوانےکو عقدِ استصناع سے تعبیر کیاجاتا ہے جسے تیار کرنے کےلیےصانع کے عمل کی ضرورت ہو،اگر اسے تیار کرنے کے لیے عمل کی ضرورت نہ ہوتی ہو تو اسے استصناع نہیں کہاجاتا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر ٹوٹے ہوئے شیشوں کو تراش کر کسی اور شکل میں مہیاکرنے کا معاہدہ کیاگیا ہے،جسے مطلوبہ شکل میں لانے کےلیے صانع کے عمل کی ضرورت ہے،تب تو یہ معاملہ استصناع کہلائےگا،بصورتِ دیگر یعنی اگر صرف ٹوٹے ہوئے شیشوں کو صاف کرنے اور انہیں رنگوں کے حساب سےالگ کرنے کامعاہدہ کیاگیاہے،تو چوں کہ ٹوٹے ہوئے شیشے پہلے سے موجود ہیں،اس لیے اس صورت میں مذکورہ معاملہ کو استصناع نہیں کہاجائےگا۔

نیز شیشہ بنانے والی ریت بھی چوں کہ پہلےسے موجود ہے،اور اسے تیار کرنے کےلیے صانع کے عمل کی ضرورت نہیں ہے،بلکہ صرف الگ کرنا مطلوب ہے؛ اس لیے اس معاملہ کو بھی استصناع نہیں کہاجائےگا۔

اس معاملہ کو درست کرنےکےلیے ضروری ہے کہ یاتو خریدار ان ٹوٹے ہوئے شیشوں کو اسکریپ ڈیلر سے خود خریدلے اور صاف اور ممتاز کرنے کےلیے کاریگر کو دے دے،ایسے ہی مخلوط ریت خود خرید کرکاریگر کوعلیحدہ کرنے کےلیے دے دے، اس صورت میں یہ اجارہ(کرایہ داری) کامعاملہ کہلائے گا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ کاریگر کے ساتھ عقدِ سلم کامعاملہ کرلے؛ کیوں کہ سلم کا معاملہ ہرچیز میں کیاجاسکتا ہے،خواہ اسے تیار کرنے کےلیے صانع کےعمل کی ضرورت ہو یا نہ ہو، نیز اس سلم کی صورت میں تمام اشیاء کی جنس،اس کے ضروری اوصاف،اور مدت بھی معین کرناضروری ہے،اسی طرح پیشگی ادائیگی بھی ضروری ہے۔

حاشية ابن عابدين  میں ہے:

"(والاستصناع) هو طلب عمل الصنعة.

(قوله هو لغة طلب الصنعة) أي أن يطلب من الصانع العمل ففي القاموس: الصناعة: ككتابة حرفة الصانع وعمله الصنعة اهـ فالصنعة عمل الصانع في صناعته أي حرفته، وأما شرعا: فهو طلب العمل منه في شيء خاص على وجه مخصوص."

(ص:٢٢٣،ج:٥،کتاب البیوع،باب السلم،مطلب فی الإستصناع،ط: ايج ايم سعيد)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"ثم اختلفت عباراتهم عن هذا النوع من البيع قال بعضهم: هو عقد على مبيع في الذمة، وقال بعضهم: هو عقد على مبيع في الذمة شرط فيه العمل ...  والصحيح هو القول الأخير؛ لأن الاستصناع طلب الصنع، فما لم يشترط فيه العمل لا يكون استصناعا؛ فكان مأخذ الاسم دليلا عليه؛ ولأن العقد على مبيع في الذمة يسمى سلما، وهذا العقد يسمى استصناعا، واختلاف الأسامي دليل اختلاف المعاني في الأصل وأما إذا أتى الصانع بعين صنعها قبل العقد، ورضي به المستصنع؛ فإنما جاز لا بالعقد الأول، بل بعقد آخر، وهو التعاطي بتراضيهما ."

(ص:٢،ج:٥،کتاب الإستصناع،فصل في صورة الإستصناع،ط: دار الكتب العلمية)

الفقه الإسلامي وأدلتهمیں ہے:

"وهو في اصطلاح الفقهاء: طلب العمل من الصانع في شيء مخصوص على وجه مخصوص. أو هو عقد مع صانع على عمل شيء معين في الذمة، أي العقد على شراء ما سيصنعه الصانع."

(ص:٣٦٤٢،ج:٥،القسم الثالث،الفصل الأول،المبحث السادس،ط: دار الفكر)

تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا میں ہے:

’’استصناع صرف ان چیزوں کا ہوسکتا ہے،جس میں صنعت ( مینو فیکچرنگ) ہوتی ہے،جیسے گارمنٹس کا ساز وسامان، فرنیچر وغیرہ،اگر کسی چیز کی صنعت ہی نہیں ہوتی ہو تو اس میں استصناع صحیح نہیں ہے،جیسے گندم، آٹا، آم وغیرہ۔۔‘‘

(ص:٢٥٩،ج:١حرف الف،استصناع کی شرائط،ط:بیت العمار)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503101849

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں