بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

شیر خوار بچے کی الٹی کا حکم


سوال

دودھ  پیتےبچے  کی الٹی کپڑوں کو لگ جائے تو  کپڑے ناپاک ہو تے ہیں یا نہیں؟ اور اگر وہ الٹی جسم پر لگ جائے تو جسم ناپاک ہوتاہے یا نہیں؟

جواب

شیرخوار بچہ، دودھ پیتے ہوئے یا دودھ پینے کے بعد  اگر قےکردے ،  تو  قے اگر  منہ بھر کر ہو تو اس کا حکم بڑے آدمی کی قے کی مانند ہوگا، پس اگر جسم یا کپڑےپر لگ جائے اور مقدار میں ایک درہم یا ایک درہم سے زائدہو تو اس کا پاک کرنا ضروری ہے،پاک کیے بغیر ان کپڑوں میں نماز نہ ہوگی۔

اگر قے منہ بھر کر نہ ہو خواہ بالغ کی ہو یا نابالغ کی تو وہ ناپاک نہیں ہے۔

اور اگر بچہ دودھ پینے کے دوران (حلق سے نیچے دودھ اتارے بغیر) منہ سے ہی دودھ نکال دے تو وہ قے کے حکم میں نہیں ہے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار  میں ہے:

’’وهو نجس مغلظ ، ولو من صبي ساعة ارتضاعه ، هو الصحيح لمخالطة النجاسة ، ذكره الحلبي‘‘.

فتاوی شامی میں ہے:

’’( قوله : ذكره الحلبي ) أي في شرح المنية الكبير ، حيث قال : والصحيح ظاهر الرواية أنه نجس لمخالطته النجاسة وتداخلها فيه بخلاف البلغم . ا هـ .

أقول : وحيث صحح القولان فلا يعدل عن ظاهر الرواية ، ولذا جزم به الشارح‘‘. ( الشامیة، كتاب الطهارة، سنن الوضوء، 1 / 138، دار الفکر)

بہشتی زیور  میں ہے :

’’چھوٹا لڑکا جو دودھ نکالتا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ اگر قے بھر منہ نہ ہو تو نجس نہیں ہے اور اگر بھر منہ ہو تو نجس ہے، اگر بے اس کے دھوئے نماز پڑھے گی نماز نہ ہوگی‘‘.  ( بہشتی زیور :صفحہ 47) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201299

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں