بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شیئرز کی خرید و فروخت کا شرعی حکم


سوال

کیا پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں حلال شیئرز خریدنا(یعنی انویسٹمنٹ کرنا) جائز ہے؟ میں نے ایک کمپنی جس کا نام "حب پاور لمیٹڈ" ہے،(ایچ یو بی سی او) اسائمبل ہے جو مہینے میں شیئرز کا کچھ منافع دیتا ہے،کیا یہ منافع لینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اسٹاک ایکسیچینج میں سرمایہ کاری کی بنیادی شرائط میں سے یہ ہے کہ  جن کمپنیوں کے شئیرز  کی خرید و فروخت  کی جاۓ ،ان    کمپنیوں کا  سرمایہ  جائز و حلال ہو، اور اس کے شرکاء میں سودی کاروبار کرنے والے اداروں یا  افراد کا سرمایہ شامل نہ ہو،  ان کمپنیوں  نے  بینک سے سودی قرضہ نہ لیا ہو،اوران  کمپنیوں کا کاروبار جائز و حلال ہو، یعنی وہ کمپنی  حرام اشیاء کا کاروبار نہ کرتی ہو، بلکہ شرعی اصولوں کے مطابق  تمام  شرائط ِفاسدہ سے پاک ہو؛لہٰذا مذکورہ کمپنی بھی اگر درج کردہ شرائط کے مطابق کام کرتی ہےتو اس  کے شیئرز خریدنا جائز ہے،بصورتِ دیگر انویسٹمنٹ ناجائز ہے، اور اس کمپنی سے حاصل ہونے والی  آمدنی حلال نہیں ہو گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام..... والبيوع الفاسدة فكلها من الربا فيجب رد عين الربا لو قائما لا رد ضمانه لأنه يملك بالقبض قنية وبحر.

 (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه."

(کتاب البیوع ،باب الربا، ج:5، ص:166،169، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(صح ‌بيع ‌عقار ‌لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار، حتى لو كان علوا أو على شط نهر ونحوه كان كمنقول ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه."

(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في التصرف في المبيع، ج:5، ص:147، ط:سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"وأما شرائط المعقود عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبیعه لنفسه وأن يكون مقدور التسلیم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم ... وخرج بقولنا وأن يكون ملكا للبائع ما ليس كذلك فلم ينعقد بيع ما ليس بِمملوك له، وإن ملكه بعده."

(كتاب البيع، شرط العقد، 279،280/5، ط: دار الكتاب الإسلامي)

الفقه الاسلامي وادلته ميں هے:

"وأما الموكل فيه (محل الوكالة): فيشترط فيه ما يأتي: ....

أن يكون التصرف مباحاً شرعاً: فلا يجوز التوكيل في فعل محرم شرعاً، كالغصب أو الاعتداء على الغير."

(الوكالة، شروط الوكالة، الموكل فيه، ج:4، ص:2999، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506100696

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں