بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شیخ عبد القادر رحمہ اللہ کے ساتھ شیطان


سوال

شیخ عبدالقادر جیلانی کا خواب میں شیطان سے مناظرہ اے عبدالقادر ہم تجھ سے نمازو روزہ کو معاف کر دیاکیا ۔ یہ واقعہ مستند ہے ؟  درج ذیل کتابوں میں اس واقعہ کو دیکھ لیا جائے:

(1) طبقات حنابلہ ج 2 ص 196 ، ریاض

(2) الطبقات الکبری للشعرانی ج 1ص 109 ، مصر

(3) شذرات الذہب فی اخبار من ذہب ج 6ص 333 ، دار ابن کثیر ، دمشق

(4) مرآۃ الزمان فی تاریخ الاعیان 89/21

(5) مجموع الفتاوی ص 172

(6) قاعدہ جلیلہ فی التوسل والوسیلہ ص 56،55

یہ واقعہ ان سب کتب میں موجود ہے ، اس واقعہ کی سندی حیثیت کیا ہے؟

جواب

یہ واقعہ  حالت بیداری کا ہے، اس کی تفصیل درج ذیل  ہے :

’’ موسیٰ بن الشیخ عبدالقادر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں صحرا کی سیر پر نکلا اور کئی دن پانی نہ ملا اور میری پیاس شدید ہوگئی، پھر ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا اور شبنم جیسی چیز گر گئی مجھ پر،  تو میں نے اپنی پیاس بجھا دی، پھر میں نے ایک نور دیکھا جس نے افق کو روشن کر دیا اور مجھے ایک تصویر دکھائی دی، اور  اس میں سے مجھے پکارا گیا کہ اے عبدالقادر ! میں تمہارا رب ہوں اور میں نے حرام چیزوں کو  تیرے لیےحلال کر دیا ہے۔۔۔ تو  میں نے  أعوذ بالله من الشیطن الرجیم پڑھا اور کہا : دفع ہوجا اے لعین! یکایک روشنی زائل ہو گئی اور وه تصوير دھواں بن گئی۔‘‘

کسی واقعہ یا  روایت کی سندی حیثیت  اس کی سند کی تحقیق کرکے  معلوم ہوتی ہے، کافی تلاش کے باوجود  اس واقعہ کی کوئی سند ہمیں نہیں ملی۔ البتہ اس واقعہ کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ اس میں کوئی خلاف شرع بات نہیں۔

"وصنّف الشّطنوفي المصري في أخبار عبد القادر ومناقبه ثلاث مجلدات، ذكر فيه بإسناده إلى موسى ابن الشيخ عبد القادر قال: سمعت والدي يقول: خرجت في بعض سياحاتي إلى البرّيّة، ومكثت أياما لا أجد ماء، فاشتد بي العطش، فأظلّتني سحابة، ونزل عليّ منها شيء يشبه النّدى فرويت، ثم رأيت نورا أضاء به الأفق، وبدت لي صورة، ونوديت منها: يا عبد القادر، أنا ربّك، وقد حللّت لك المحرمات- أو قال ما حرّمت على غيرك- فقلت: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، اخسأ يا لعين، فإذا ذلك النور ظلام وتلك الصورة دخان".

(شذرات الذهب في أخبار من ذهب: سنة إحدى وستين وخمسمائة (6/ 333)، ط. دار ابن كثير، دمشق - بيروت،الطبعة الأولى: 1406 هـ =1986 م)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100269

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں