بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

شوال میں مدرس کی تقرری ہو تو شوال کی تنخواہ ملے گی یا نہیں؟


سوال

مدرس کی تقرری شوال میں ہوجائے اور  شوال کے کچھ ایام پڑھائی ہو کیا اس طرح مدرس کو شوال کی تنخواہ ملنا چاہیے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں مدرس کی تقرری جس ادارے میں ہورہی ہے،اس ادارے اور مدرس کے درمیان معاہدے کے مطابق مدرس تنخواہ کا مستحق ہوگا ،چنانچہ اگر ادارہ کی طرف سے یہ طے ہوا ہو کہ جس مدرس کا شوال میں تقرر ہوا ہے وہ مدرس شوال کے تمام  ایام کی تنخواہ کا مستحق ہوگا تو اس صورت میں مدرس تمام ایام کی تنخواہ  لے سکتاہے ،اگر چہ تمام ایام میں پڑھائی نہ ہوئی ہو ۔

اور اگر ادارے کی طرف سے یہ طے ہوا ہو کہ جس دن سےادارے میں  پڑھائی شروع ہوگی  اس دن سے تنخواہ کا استحقاق ہوگا، تو مدرس حسب ضابطہ اور حسب معاہدہ اس دن سے تنخواہ کا حق دار ہوگا ۔

مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"وعن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحاً حرم حلالاً أو أحل حراماً، والمسلمون على شروطهم إلا شرطاً حرم حلالاً أو أحل حراماً» . رواه الترمذي وابن ماجه وأبو داود وانتهت روايته عند قوله: «شروطهم»".

(باب الافلاس والانظار، الفصل الثانی، ج: 1، صفحہ: 253، ط:   قدیمی)

فتاوی شامی میں ہے: 

"وفي المنية القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، وفي الوهبانية أنه أظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدرس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة تكون للمطالعة والتحرير عند ذوي الهمة أما لو قال يعطى المدرس كل يوم كذا فينبغي أن يعطى ليوم البطالة المتعارفة بقرينة ما ذكره في مقابله من البناء على العرف، فحيث كانت البطالة معروفة في يوم الثلاثاء والجمعة وفي رمضان والعيدين يحل الأخذ، وكذا لو بطل في يوم غير معتاد لتحرير درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا".

(كتاب الوقف،مطلب في قطع الجهات لاجل العمارة، ج:4،ص:372،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144510102158

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں