بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

شرٹ ميں نماز کیوں مکرو ہوتی ہے؟


سوال

اسلام میں ستر ناف سے ٹخنوں تک ہے،  لیکن شرٹ سے نماز کیوں مکروہ  ہوتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ناف سے متصل نیچے سے لے کر گھٹنوں سمیت مرد کا ستر ہے، اس میں سے کسی عضو کے چوتھائی حصے کے برابر حصہ کھلا ہو تو نماز شروع کرنا ہی درست نہیں ہوتا، اور نماز کے دوران تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار تک کھل جائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ  یہ مقدار چھپانا ہر حال میں فرض ہے، خواہ نماز ہو یا خارجِ نماز۔ دوسری بات یہ ہے کہ نماز میں اتنا حصہ نہ چھپایا تو نماز صرف مکروہ نہیں ہوتی، بلکہ ہوتی ہی نہیں ہے۔ اور کراہت کا مطلب یہ ہوتاہے کہ نماز تو ہوجائے گی، لیکن   کسی سنت چھوڑنے یا  ناپسندیدہ کام کرنے کی وجہ سےاس کا ثواب کم ہوجائے گا۔

اس تمہید کے بعد یہ بھی ملحوظ رہے کہ نماز میں جو چیزیں شرعًا ناپسندیدہ ہیں ان میں سے ایک آستین کا آدھا ہونا یا بالکل نہ ہونا ہے، اسی طرح غیر صلحاء کے لباس  اور وضع میں نماز اد اکرنا ہے۔

اب شرٹ کا مسئلہ ملاحظہ ہو کہ اگر کوئی شخص ایسی  شرٹ پہنے  جس کی آستینیں مکمل ہوں، اور رکوع و سجود میں شرٹ اوپر ہونے اور پینٹ نیچے  ہونے سے ستر بھی نہ کھلتا ہو اور شرٹ بالکل فِٹ بھی نہ ہو تو اس میں نماز ہوجائے گی، البتہ بہتر ہوگا کہ سنت سے ثابت شدہ لباس میں نماز ادا کی جائے۔

لیکن اگر شرٹ کی آستینیں آدھی ہوں یا بالکل نہ ہوں، یا بالکل فٹ ہو تو یہ لباس اسلامی لباس نہیں ہے، نیز اس میں غیروں کے  ساتھ  مشابہت بھی ہے، (گو یہ مشابہت اس وقت حرام درجے کی نہیں ہے) اور  اس میں  آستینیں چڑھانے  والے کے ساتھ بھی مشابہت ہے ، لہٰذا ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہوا،  ہاں   عذر و مجبوری کی وجہ سے کراہت میں کمی ہو  گی۔ اور اگر رکوع و سجود میں شرٹ اوپر اٹھ جاتی ہو اور پینٹ نیچے ہوجاتی ہو، جس سے ناف  کے بالمقابل کمر کا نچلا حصہ نماز کے دوران تین تسبیح کی مقدار کھل جاتاہے تو نماز ہی نہیں ہوگی۔ فقط، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209202078

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں