بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

شرمگاہ میں روئی رکھنے سے وضو کا حکم


سوال

اگر ایک عورت مذی روکنے کے لیے اپنی شرم گاہ میں روئی رکھے تو کیا اس کا وضو باقی رہتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر کوئی عورت شرمگاہ  کے داخلی حصے میں روئی وغیرہ   رکھ لے جس سے مذی  باہر نہیں نکل سکے تو جب تک شرمگاہ کے اندر ہی اندر مذی رہے، باہر نہ نکلے  اور روئی وغیرہ کے بیرونی حصہ پر   بھی تری ظاہر نہ ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اگر تری کی وجہ سے روئی کا باہر والا حصہ بھی تر ہوجائے، یا روئی   شرمگاہ  سے نکالی جائے  اور اس  کے اندرونی حصے میں مذی  لگی ہوئی ہو تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔

اور اگر روئی شرمگاہ کے بالکل اندر داخل کردی ہو اور اس کا سرا باہر نہ ہو تو  شرمگاہ کے اندر روئی کے تر ہونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، کیوں کہ اس صورت میں نجاست کا نکلنا نہیں پایا گیا، تاہم اس صورت میں بھی اگر روئی باہر نکالی اور وہ تر ہوئی تو اس وقت وضو ٹوٹ جائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 148):
"(كما) ينقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر) هذا لو القطنة عالية أو محاذية لرأس الإحليل وإن متسفلة عنه لاينقض، وكذا الحكم في الدبر والفرج الداخل (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض ولو سقطت؛ فإن رطبه انتقض، وإلا لا".  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110200156

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں