بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

شرعی گواہوں کے بغیر محض ویڈیو کی بنا پر حدِ زنا جاری کرنے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں:

‍1:   اگر غیر محرم مرد و عورت جماع کرنے کی ویڈیو وائرل ہو جائے تو کیا محض ویڈیو کی بناء پر اس کو زناکرنے کی سزا ہوگی یا گواہان پیش کرنا لازمی ہے؟

2: اگر مرد شہوت بڑھانے کے لیے اپنی بیوی کی دُبُر کے باہر اپنا آلہ تناسل رگڑاتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1: از رُوئے شرع حدود کی بنیاد کامل یقین پر ہے،اسی وجہ سے  کسی بھی مقدمے  میں شرعی حد کے نفاذ کے فیصلہ کے  لیے  چار  اصل  چشم دید شرعی گواہوں کا ہونا ضروری ہے، جب شرعی گواہ شرعی طریقے سے گواہی دیں گے تو شرعی حد نافذ  ہوگی،  لہذا  شرعی گواہوں کی عدمِ موجودگی میں محض ویڈیو  اور سی سی ٹی وی کیمرے  کی فوٹیج  پر  شرعی حدود کے نفاذ کےفیصلہ کا مدار نہیں رکھا جاسکتا، کیوں کہ فوٹیج  میں تلبیس اور تبدیلی کی کافی گنجائش ہونے کی وجہ سے اس میں شکوک و شبہات  رہتے ہیں  اور حدود کی بنیاد کامل  یقین پر ہونے کی وجہ سے معمولی شبہات سے حدود ختم ہوجاتے ہیں، جیسے کہ شریعت مطہرہ نے  اسی طرح کے شبہ (یعنی تبدیلی اور تلبیس وغیرہ)  کی بنیاد پر  تحریری شہادت کو بھی معتبر اور نافذ العمل نہیں مانا، کیوں کہ اس میں بہرحال خط کی تبدیلی اور نقل وغیرہ کے اشتباہ کا خطرہ موجود ہے۔

دوم یہ کہ جاندار کی تصویر سازی بالخصوص مرد وعورت کی بےحیائی والی تصویر سازی ناجائز اور  حرام ہے۔

سوم یہ کہ بدکاری یقیناً حرام ہے، لیکن اگر کسی سے یہ گناہ سرزد ہوگیا ہو تو اس کی اشاعت کرکے لوگوں میں اس کا چرچہ کرنے سے شریعت منع کرتی ہے؛ کیوں کہ  اس سے یہ برائی مزید پھیلنے کا باعث بنتی ہے اور یہ دوسروں کے  لیے ایک نوعیت کا دعوت گناہ بھی ہے۔

لہذا ایسی حرکتوں کی ویڈیو سازی کرکے اس کو  لوگوں میں پھیلانا گویا کہ دوسروں کو برائی کی دعوت دینا ہے  جو کہ درست نہیں ہیں۔

 الله تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے:

"إن الذين يحبون أن تشيع الفاحشة في الذين آمنوا لهم عذاب أليم في الدنيا والآخرة والله يعلم وأنتم لا تعلمون".

ترجمہ: جو لوگ (بعد نزول ان آیات کے بھی) چاہتے ہیں کہ بےحیائی کی بات کا مسلمانوں میں چرچا ہو  ان کے لیے دنیا اور آخرت میں سزائے دردناک (مقرر) ہے اور (اس امر پر سزا کا تعجب مت کرو کیوں کہ) اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

(سورۃ النور، رقم الآیۃ:19، ترجمہ:بیان القرآن)

لہذا مذکورہ نوعیت کی ڈیو سازی کی حوصلہ افزائی کی بجائے اس کی حوصلہ شکنی ضروری ہے جب کہ یہ شرعی ثبوت کا درجہ بھی نہیں رکھتی جیسا کہ  پہلے لکھا گیا ہے،  تاہم اگر یہ عدالت کے سامنے پیش کی جائے تو عدالت ملزمان سے تفتیش اور کیس کے جائزے  میں معاونت کا کام لے سکتی ہے،  لیکن جب تک ملزمان اعترافِ  جرم نہ  کریں، اور  اعتراف بھی شرعی تقاضے کے مطابق چار مرتبہ صراحتاً اعترافِ  زنا  نہ  کریں  تو عدالت شرعی حد نافذ نہیں کر سکتی ، ہاں اگر علاوہ زنا کے بوس کنار یا زنا سے متعلقہ حرکات کا اعتراف کرے،  تو عدالت تعزیری سزا نافذ کر سکتی ہے۔(1)

2: سوال میں ذکرکردہ  جماع  کی صورت    باعثِ  گناہ نہیں ہے، تاہم اس دوران  احتیاط کرنا چاہیے؛ تاکہ  ایک حرام  اور قابلِ لعنت کام  (مقعد میں دخول) کا ارتکاب نہ ہوجائے۔(2)

حوالہ جات مندرجہ ذیل ہے:

(1) قرآنِ مجید میں ہے:

"وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْھُنَّ فِي الْبُيُوْتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰىھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لَھُنَّ سَبِيْلًا."

ترجمہ:  اور جو عورتیں بیحیائی کا کام کریں تمہاری بیبیوں میں سے سو تم لوگ ان عورتوں پر چار آدمی اپنوں میں سے گواہ کرلو۔ سو اگر وہ گواہی دیدیں تو تم ان کو گھروں کے اندر مقید رکھو یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کردے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راہ تجویز فرمادیں۔

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:15، ترجمہ:بیان القرآن)

قرآنِ مجید میں ہے:

"لَوْلَا جَاۗءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ  ۚ فَاِذْ لَمْ يَاْتُوْا بِالشُّهَدَاۗءِ فَاُولٰۗىِٕكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ."

ترجمہ:  (آگے اس حسن ظن کے وجوب کی وجہ ارشاد ہے کہ) یہ (قاذف) لوگ اس (اپنے قول) پر چار گواہ کیوں نہ لائے  سو جس صورت میں یہ لوگ (موافق قاعدہ کے) گواہ نہیں لائے تو بس اللہ کے نزدیک یہ جھوٹے ہیں۔

(سورۃ النور، رقم الآیۃ:13، ترجمہ:بیان القرآن)

حدیث شریف میں ہے:

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، أَؤُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»."

(صحیح مسلم، کتاب اللعان، رقم الحدیث:1498، ج:2، ص:1135، ط:داراحیاء التراث العربی)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا:  اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پاؤں تو کیا میں اسے اتنی مہلت دوں کہ میں چار گواہ لے آؤں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ہاں۔ 

حدیث شریف میں ہے:

"عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ادرءوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم، فإن كان له مخرج فخلوا سبيله، فإن الإمام أن يخطئ في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة»."

(سنن الترمذی، ابواب الحدود، باب ما جاء في درء الحدود، رقم الحدیث:1424، ج:3، ص:85، ط:دارالغرب الاسلامی)

ترجمہ: حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہاں تک ہوسکے مسلمانوں سے حدود کو دور کرو۔ اگر اس کے لیے کوئی راستہ ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دو امام کا غلطی سے معاف کردینا غلطی سے سزا دینے سے بہتر ہے۔

فتاوی شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"(ويثبت بشهادة أربعة) رجال (في مجلس واحد) فلو جاءوا متفرقين حدوا (ب) لفظ (الزنا لا) مجرد لفظ (الوطء والجماع) وظاهر الدرر أن ما يفيد معنى الزنا يقوم مقامه...(فيسألهم الإمام عنه ما هو) أي عن ذاته وهو الإيلاج عيني (وكيف هو وأين هو ومتى زنى وبمن زنى) لجواز كونه مكرها أو بدار الحرب أو في صباه أو بأمة ابنه، فيستقصي القاضي احتيالا للدرء (فإن بينوه وقالوا رأيناه وطئها في فرجها كالميل في المكحلة) هو زيادة بيان احتيالا للدرء (وعدلوا سرا وعلنا) إذا لم يعلم بحالهم.

قوله ويثبت) أي الزنا عند القاضي، أما ثبوته في نفسه فبإيجاد الإنسان له؛ لأنه فعل حسي نهر (قوله رجال) ؛ لأنه لا مدخل لشهادة النساء في الحدود، وقيد بذلك من إدخال التاء في العدد كما هو الواقع في النصوص (قوله فلو جاءوا متفرقين حدوا) أي حد القذف، ولو جاءوا فرادى وقعدوا مقعد الشهود وقام إلى القاضي واحد بعد واحد قبلت شهادتهم، وإن كانوا خارج المسجد حدوا جميعا بحر عن الظهيرية، وعبر بالمسجد؛ لأنه محل جلوس القاضي يعني أن اجتماعهم يعتبر في مجلس القاضي لا خارجه، فلو اجتمعوا خارجه ودخلوا عليه واحدا بعد واحد فهم متفرقون فيحدون (قوله بلفظ الزنا) متعلق بشهادة، فلو شهد رجلان أنه زنى وآخران أنه أقر بالزنا لم يحد، ولا تحد الشهود أيضا إلا إذا شهد ثلاثة بالزنا والرابع بالإقرار به فتحد الثلاثة ظهيرية؛ لأن شهادة الواحد بالإقرار لا تعتبر فبقي كلام الثلاثة قذفا بحر (قوله لا مجرد لفظ الوطء والجماع) ؛ لأن لفظ الزنا هو الدال على فعل الحرام دونهما، فلو شهدوا أنه وطئها وطئا محرما لا يثبت بحر: أي إلا إذا قال وطئا هو زنا.

والظاهر أنه يكفي صريحه من أي لسان كان كما صرح به في الشرنبلالية في حد القذف، فإنه يشترط فيه صريح الزنا كما هنا تأمل (قوله وظاهر الدرر إلخ) ونصها أي بشهادة ملتبسة بلفظ الزنا؛ لأنه الدال على فعل الحرام أو ما يفيد معناه وسيأتي بيانه. اهـ.

ولا يخفى أنها محتملة أن يكون قوله أو ما يفيد معناه عطفا على الضمير قوله؛ لأنه الدال، يعني أن الدال على فعل الحرام لفظ الزنا أو ما يفيد معناه، وليس ذلك صريحا في أن ما يفيد معناه تصح الشهادة به، نعم ظاهر العبارة عطفه على لفظ الزنا، لكن قوله وسيأتي بيانه أراد به كما قاله بعض المحشين ما ذكره في التعزير من أن حد القذف يجب بصريح الزنا أو بما هو في حكمه بأن يدل عليه اللفظ اقتضاء كقوله في غضب لست لأبيك أو بابن فلان أبيه اهـ وأنت خبير بأن هذا لا يتأتى هنا فهذا يؤيد ما قلنا من العطف على الضمير فافهم."

(کتاب الحدود، ج:4، ص:07، ط:ایج ایم سعید)

شرح المجلة  للمرحوم سلیم رستم باز میں ہے:

"القرينة القاطعة هي الأمارة البالغة حد اليقين".

(الکتاب الخامس عشر فی حق البینات والتحلیف، الفصل الثانی فی بیان القرینۃ القاطعۃ، ج:2، ص:844، ط: مکتبہ رشیدیہ)

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر میں ہے:

"وضابط التعزير:  كل معصية ليس فيها حد مقرر ففيه التعزير.

 قوله: وضابطه التعزير أي ضابط موجب التعزير.

 قوله: كل معصية ليس فيها حد مقدر ففيه التعزير. في شرح الطحاوي كما تقدم، والأصل في وجوب التعزير أن من ارتكب منكرا أو آذى مسلما بقوله أو فعله وجب عليه التعزير إلا إذا كان ظاهر الكذب".

(کتاب الحدود والتعزیر، ج:2، ص:182، ط:دارالکتب العلمیۃ)

فتاوی شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"الفرق بين الحد والتعزير أن الحد مقدر والتعزير مفوض إلى رأي الإمام، وأن الحد يدرأ بالشبهات والتعزير يجب معها، وأن الحد لا يجب على الصبي والتعزير شرع عليه".

(کتاب الحدود، ج:4، ص:60، ط:ایج ایم سعید)

(2): الجامع لاحکام القرآن (تفسير القرطبي ) میں ہے:

"نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم وقدموا لأنفسكم واتقوا الله واعلموا أنكم ملاقوه وبشر المؤمنين. (223)

فيه ست مسائل: الأول- قوله تعالى: (نساؤكم حرث لكم) روى الأئمة واللفظ للمسلم عن جابر بن عبد الله قال: كانت اليهود تقول: إذا أتى الرجل امرأته من دبرها في قبلها كان الولد أحول، فنزلت الآية:" نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم" زاد في رواية عن الزهري: إن شاء مجبية  وإن شاء غير مجبية غير إن ذلك في صمام واحد. ويروى: في سمام واحد بالسين، قاله الترمذي. وروى البخاري عن نافع قال: كان ابن عمر إذا قرأ القرآن لم يتكلم حتى يفرغ منه، فأخذت عليه يوما ، فقرأ سورة" البقرة" حتى انتهى إلى مكان قال: أتدري فيم أنزلت؟ قلت: لا قال: نزلت في كذا وكذا، ثم مضى. وعن عبد الصمد قال: حدثني أبي قال حدثني أيوب عن نافع عن ابن عمر:" فأتوا حرثكم أنى شئتم" قال: يأتيها في . قال الحميدي: يعني الفرج. وروى أبو داود عن ابن عباس قال: إن ابن عمر والله يغفر له وهم، إنما كان هذا الحي من الأنصار، وهم أهل وثن، مع هذا الحي من يهود، وهم أهل كتاب: وكانوا يرون لهم فضلا عليهم في العلم، فكانوا يقتدون بكثير من فعلهم، وكان من أمر أهل الكتاب ألا يأتوا النساء إلا على حرف، وذلك أستر ما تكون المرأة، فكان هذا الحي من الأنصار قد أخذوا بذلك من فعلهم، وكان هذا الحي من قريش يشرحون النساء شرحا «2» منكرا، ويتلذذون منهن مقبلات ومدبرات ومستلقيات، فلما قدم المهاجرون المدينة تزوج رجل منهم امرأة من الأنصار، فذهب يصنع بها ذلك فأنكرته عليه، وقالت: إنما كنا نؤتى على حرف! فاصنع ذلك وإلا فاجتنبني، حتى شري  أمرهما؟ فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فأنزل الله عز وجل:" فأتوا حرثكم أنى شئتم"، أي مقبلات ومدبرات ومستلقيات، يعني بذلك موضع الولد."

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:223، ج:3، ص:91، ط:دارالکتب المصریۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101425

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں