بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شیئرز قبضے میں آنے سے پہلے آگے فروخت کرنا


سوال

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ day trading جائز نہیں،  اب اگر میں نے آج شیئرخریدے اور کوئی ایسی خبر آگئی کہ اس شیئرکی قیمت کم ہونا شروع ہوگئی،  تو میں نے تھوڑا سا نقصان کر کے اپنے شئیر اسی دن بیچ دیئے،  تو اب میری رقم کے بارے میں کیا حکم ہے؟  اس میں خدشہ ہے کہ اگرمیں وہ شیئرنہ بیچتا تو میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا،  مثال کے طور پر ایک شیئر ایک دن میں 5 فیصد تک اوپر یا نیچے جا سکتا ہے، جس وقت میں نے خریدا وہ 5 فیصد اضافہ پر تھا، خبر آنے کے بعد وہ شیئراپنے نچلی سطح کو چھو گیا،  اب میرا ایک دن کا نقصان 10 فیصد ہو گیا،  اب اگر یہ رجحان برقرار رہا تو جب تک میرے پاس شیئر ڈیلیور ہوگا تب تک میرا 20 فیصد نقصان ہو جائے گا، مطلب 1 لاکھ کا سرمایہ سکڑ کر 80 ہزار رہ جاتا،  اس نقصان سے بچنے کے لیے میں نے تھوڑا سا نقصان 2000 روپے کر کے اسی دن بیچ دیا ، حالاں کہ شیئر مجھے ڈیلیور نہیں ہوا تھا،  اس کی مثال اس طرح بھی لی جا سکتی ہے کہ میں نے کسی شخص سے ایک چیز خریدنے کا سودا کیا، لیکن مجھے لگا کہ یہ سودا فائدہ مند نہیں ہے تو میں نے اسی وقت اپنا سودا ختم کیا،  تھوڑے سے نقصان پر ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں   سائل کا شیئرز ڈلیور ہونے سے پہلے آگے فروخت کرنا  جائز نہیں تھا،  کیوں کہ اس وقت تک  سائل کا قبضہ ان شیئرز پر نہیں پایا گیا تھا،  اور مبیع  پر قبضے سے پہلے اسے آگے فروخت کرنا شرعا درست نہیں،  لہذا یہ بیع درست نہیں ہوئی۔

باقی سائل کا اس عمل کو سودا ختم کرنے سے تعبیر کرنا درست نہیں، کیوں کہ یہ سودا ختم نہیں کیا جا رہا، بلکہ نقصان سے بچنے کے لیے مبیع قبضے میں آنے سے پہلے فروخت کیا جا رہا ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"قبض كل شيء وتسليمه يكون بحسب ما يليق به."

(کتاب الوقف، ج:5، ص:248، ط؛ سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض»، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر»."

 (کتاب البیوع،ج:5، ص:180،  ط: سعید)

فقط و الله اعلم  


فتوی نمبر : 144501102229

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں