بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

شریک (پارٹنر) معاہدہ پرعمل نہ کرے تو کیا حکم ہے؟


سوال

دو پارٹنر ہیں کسی کام میں، لیکن اگر ان میں سے ایک پارٹنر کام پر کم آتا ہو اور توجہ نہ دیتا ہو تو اس کو نفع میں سے حصہ دینا یا اس کےلیے حصہ لینا شرعا جائز ہے؟ جب دوسرے پارٹنر سے کام کا پوچھا جائے تو وہ کہتا ہے میں فون پر کام کرلیتا ہوں اور دوسرا بندہ جا کر کام کرتا ہے کام تو ہم دونوں ہی کررہے ہیں لہذا کیا اس طرح دونوں کا نفع لینا جائز ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ دونوں پاٹنر نے کاروبار شروع کرنے سے قبل ہر ایک پارٹنر کا نفع طےکیا ہوا تو دونوں پاٹنر اسی تناسب سے نفع کے حق دار ہیں،چاہے  ایک پارٹنر کم کام کرتا ہواور دوسرا زیادہ کرتا ہو،یا  ایک پاٹنر صرف فون پر کام کرتا ہو اور دوسرا  جاکر کام کرتا ہو،تاہم اگر مذکورہ دونوں پاٹنر یہ سمجھتے ہوں کہ ایک  کی محنت زیادہ ہے اور دوسرے کی محنت کم ہے تو وہ باہمی رضامندی سے زیادہ محنت کرنے والے پاٹنر کے لیے نفع کا تناسب زیادہ بھی طے کرسکتے ہیں۔

"وفي النهر: اعلم أنهما إذا شرطا العمل عليهما إن تساويا مالا وتفاوتا ربحا جاز عند علمائنا الثلاثة خلافا لزفر والربح بينهما على ما شرطا وإن عمل أحدهما فقط."

(حاشية ابن عابدين رد المحتار ط الحلبي، ج:4، ص: 312)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100437

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں