بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

شریک کے ساتھ نئے کاروبار کے حوالے سے مشورہ


سوال

میرے والد اور ان کے دوست کی شراکت ہے تقریباً 12 سال سے،  میں تین سال سے دکان جارہا ہوں، دکان میں کاروبار بھی الحمداللہ  بہت اچھا ہے، مجھے دکان سے صرف 1 ہزار روپے ہر ہفتے دیتے ہیں،  میں کچھ کرنا چاہتا ہوں، سب سوچتے عمل میں کچھ نہیں آپاتا،  پارٹنر کا بیٹا بھی ہے وہ ہر کام میں میرے ساتھ شامل کردیتے ہیں، اور کسی  کام میں مجھے شامل نہیں کرتے ہیں، وہ تقریباً دو سال چھوٹا ہے، لیکن ان کا بڑا بیٹا ہے  تو برابری میں رکھتے ہیں، میں کیا کروں؟  راہ نمائی فرمائیں، کوئی اگر دعا ہوں تو وہ بھی بتادیں کہ کام کے لیے راستے بن جائیں، نہ  ان کی حق تلفی ہو نہ ہماری!

جواب

آپ جو نیا کام کرنا چاہتے ہیں، اس حوالے سے پہلے اپنے والد صاحب اور کاروبار کا تجربہ رکھنے والے کسی شخص سے مشورہ کریں اور ان کی اجازت نیز  شریک سے اجازت لے کر  ان کے ساتھ  یا الگ کام شروع کریں، اور اگر شریک کے بیٹے سے آپ مطمئن نہ ہوں تو  والد سے اس کا بھی اظہار کریں ۔اس صورت میں ان کی حق تلفی نہ ہوگی۔ اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو پھر ان کے کام میں خود کچھ نہ کریں، بلکہ والد کے مشورے سے اپنا علیحدہ کام کریں۔

"اَللّٰهُمَّ خِرْ لِيْ وَ اخْتَرْ لِيْ"  اور  "اَللّٰهُمَّ أَلْهِمْنِيْ رُشْدِيْ  وَ أَعِذْنِيْ  مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ" کا ورد رکھیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200830

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں