بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

شرم گاہ چھونے سے وضو لازم نہیں


سوال

کیا لباس بدلتے ہوئے اگر شرمگاہ کو ہاتھ لگ جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ 

جواب

 کسی بھی وقت  شرم گاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ شرم گاہ سے اگر کوئی  نجاست نکل آئے تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسند احمد میں ہے:

١٦٢٨٦ - حدثنا حماد بن خالد، قال: حدثنا أيوب بن عتبة، عن قيس بن طلق، عن أبيه قال: سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم أيتوضأ أحدنا إذا مس ذكره؟ قال: " إنما هو بضعة منك أو جسدك. "

( مسند المدنیین، حديث طلق بن علي، ٢٦ / ٢١٤، ط: مؤسسة الرسالة)

ترجمہ: حضرت طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہم سے کوئی شخص جب اپنی شرم گاہکو چھوئے تو کیا وہ وضو کرے گا: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے   فرمایا: " وہ تو  تمہارا ایک حصہ ہے، یا فرمایا کہ وہ  تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے" 

 سنن ابن ماجه میں ہے:

" ٤٨٣ - حدثنا علي بن محمد حدثنا وكيع حدثنا محمد بن جابر قال سمعت قيس بن طلق الحنفي عن أبيه قال «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن مس الذكر فقال ليس فيه وضوء إنما هو منك."

( كتاب الطهارة و سننها، باب الرخصة في ذلك،  1/163، ط: دار إحياء الكتب العربية)

ترجمہ: حضرت  طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ سے شرمگاہ چھونے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: "اس کے چھونے سے وضو نہیں ہے، وہ تو تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے"

حاشية السندي على سنن ابن ماجهمیں ہے:

قوله (إنما هو منك) أي جزء منك فلو كان مسه ناقضا لنقض مس كل جزء ففي الحكم بنقض الوضوء منه حرج مدفوع شرعا وصنيع المصنف يشير إلى ترجيح الأخذ بهذا الحديث آخر الباب وسماه باب الرخصة بعد العزيمة ويؤخذ بالمتأخر وذلك لأن بالتعارض حصل الشك في النقض والأصل عدمه فيؤخذ به ولأن حديث «من مس ذكره» يحتمل التأويل بأن يجعل مس الذكر كناية عن البول لأنه غالبا يرادف خروج الحدث فعبر به عنه كما عبر بالمجيء من الغائط عما يقصد الغائط لأجله في قوله تعالى {أو جاء أحد منكم من الغائط} [النساء: ٤٣] قلت ومثل هذا من الكنايات كثير فيما يستقبح التصريح بذكره ويؤيده أن عدم انتقاض الوضوء بمس الذكر قد علل بعلة ذاتية وهي أن الذكر جزء من الإنسان فالظاهر دوام الحكم بدوام علته ودعوى أن حديث قيس بن طلق منسوخ لا تعويل عليه وفي تسمية المصنف إياه رخصة إشارة إلى أن العمل بالأول لا يخلو عن احتياط وبالثاني جائز.

( كتاب الطهارة و سننها، باب الرخصة في ذلك،1/177، ط: دار الجيل - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101288

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں