بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شعبان 1445ھ 01 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

شرابی کے یہاں ملازمت کرنے والے کی تنخواہ کا حکم


سوال

 میں  دبئی  میں ایک گھر میں کام کرتا ہوں،  میرا کفیل شرابی ہے،  اور  میں اس کے لیے کبھی کبھی کھانا بھی بناتا ہوں،  سب کو اس کے بارے میں معلوم ہے،  کیا اس کی وجہ سے میری روزی حلال ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ  اپنے عمل کا معاوضہ تنخواہ کی صورت میں لے رہے ہیں؛ لہٰذا  اگر آپ اپنے کفیل کے ساتھ کسی گناہ کے کام میں معاونت نہیں کر رہے تو آپ کی تنخواہ حلال ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4 / 174):

"أما الإجماع فإن الأمة أجمعت على ذلك قبل وجود الأصم حيث يعقدون عقد الإجارة من زمن الصحابة - رضي الله عنهم - إلى يومنا هذا من غير نكير، فلا يعبأ بخلافه إذ هو خلاف الإجماع، وبه تبين أن القياس متروك لأن الله تعالى إنما شرع العقود لحوائج العباد، وحاجتهم إلى الإجارة ماسة؛ لأن كل واحد لا يكون له دار مملوكة يسكنها أو أرض مملوكة يزرعها أو دابة مملوكة يركبها وقد لا يمكنه تملكها بالشراء لعدم الثمن، ولا بالهبة والإعارة؛ لأن نفس كل واحد لا تسمح بذلك فيحتاج إلى الإجارة فجوزت بخلاف القياس لحاجة الناس."

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144111200394

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں