بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو القعدة 1441ھ- 15 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

نومسلم نے حالتِ کفر میں شراب خانہ میں نوکری سے رقم کمائی، باقی ماندہ رقم کا حکم


سوال

کیا حرام نوکری سے کمائی ہوئی باقی ماندہ رقم میرے  لیے حلال ہے یا حرام؟ میں مسلمان ہونے سے پہلے ایک شراب خانہ میں کام کرتا تھا، وہاں میں ہر شعبہ میں فعال تھا، جیسے شراب کی بھٹی، تخمیر کا گودام، پریشر ٹینک کا گودام، فلٹریشن اور بوتلیں بھرنا، وغیرہ۔ حقیقت میں مجھے ساتھ  میں بہت ساری پڑھائی پڑھنی تھی اور اس کے علاوہ  میں نے مرمت اور صفائی کا کام بھی بہت کیا تھا۔ اس کے بعد میں نے اسلام قبول کرلیا۔ جب میں نے اسلام قبول کیا تو مجھے بہت عرصہ تک حرام اور حلال کے پیسوں کے بارے میں پتا نہیں تھا، حتی کہ  میں نے ایک مسلمان فیملی  سے بھی ایک بار اپنے کام کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے کہا جب تک تم شراب نہیں پیتے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد مجھے پتا چلا کہ حرام اور حلال رقم جیسی بھی کوئی چیز ہے۔ میں نے دو تین ماہ کے اندر ہی وہ  ملازمت چھوڑ دی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:

1- کیا اس نوکری سے کمائی گئی  باقی ماندہ  رقم میرے لیے حلال ہے یا نہیں؟  کیوں کہ میں نے اسے لاعلمی میں کمایا تھا۔ ایک اور بات یہ کہ  میں فی الحال اسی رقم سے گزارا  کر رہا ہوں۔ میں نے ابھی ایک نئی جاب شروع کی ہے جہاں میں تقریباً 600 سے 700 یورو ماہانہ کما رہا ہوں، جس کا موازنہ 5000 یورو سے نہیں کیا جاسکتا، جو میں شراب خانہ سے ماہانہ  کمایا کرتا ہے ۔

2- میں مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کا بھی  ارادہ کر رہا ہوں۔ کیا میں اس رقم کو مدرسہ میں فیس کے لیے استعمال کرسکتا ہوں؟

3- اگر مسلمان ہونے کے بعد کمائی ہوئی رقم میرے لیے حرام ہے تو میں یہ کیسے تعین کرسکتا ہوں کہ اب میرے بینک اکاؤنٹ میں سے کون سا پیسہ مجھے مسلمان ہونے سے پہلے ملا اور کون سا مسلمان ہونے کے بعد ملا؟

جواب

جس طرح مسلمان کے لیے شراب پینا حرام اور کبیرہ گناہ ہے اسی طرح شراب بنانا اور اس کی خرید و فروخت بھی حرام ہے، اس لیے مسلمان کے لیے شراب خانہ میں نوکری کرنا جائز نہیں ہے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی بھی حرام ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں حالتِ اسلام میں شراب خانہ سے کمائی گئی رقم حرام ہے، اسے استعمال کرنا اور مدرسے کی فیس میں صرف کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اسلام قبول کرنے سے پہلے کمائی ہوئی تمام رقم آپ کے لیے حلال ہے، اس رقم کو مدرسہ کی فیس اور ہر جائز کام میں استعمال کرسکتے ہیں۔

آپ کے بینک اکاؤنٹ میں جتنے پیسے ہیں، اس میں سے حالت اسلام میں کمائی گئی رقم کا حساب لگا کر وہ رقم کسی مستحقِ زکات شخص(جس کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ  اصلیہ سے زائد  نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر  رقم نہیں ہو ، اور نہ ہی  اس  قدر ضرورت سے زائد  سامان ہو  جس کی مالیت نصاب کے برابر بنتی ہے اور نہ  ہی  وہ ہاشمی، سید، عباسی ہو) کو ثواب کی نیت کے بغیر دینا لازم ہے۔ اور لاعلمی میں جو حرام مال کمایا اس پر توبہ و استغفار کریں۔

باقی رہی یہ بات کہ شراب خانہ کی آمدنی بہت زیادہ تھی اور ابھی آپ جو نوکری کررہے ہیں وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی تو مسلمان کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ حلال اگرچہ قلیل ہو، لیکن اس میں برکت ہی برکت ہے؛ اس لیے کہ برکت کا معنی ہے "قلیلٌ کثیر النفع"  یعنی جو تھوڑا ہو اور اس کا نفع زیادہ ہو، اور حرام اگرچہ کثیر ہو اس کا نتیجہ بالآخر تباہی و خسران اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو حلال روزی پر راضی رہنا چاہیے اور اس بات کا بھی پختہ یقین ہونا چاہیے کہ رزاق (رزق دینے والے) اللہ تعالیٰ ہی ہیں اور جس شخص کے لیے جتنا رزق مقدر ہے اس کو اتنا ہی رزق مل کر رہے گا، نہ اس سے کم ملے گا اور نہ اس سے زیادہ۔ لہٰذا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہےاللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھیں اور ہوسکے تو اپنے قریب میں کسی متبعِ شریعت و سنت بزرگ یا عالم دین سے رابطہ میں رہیں۔ ہر فرض نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتے درج ذیل دعا پڑھنے کا اہتمام بھی کریں:

"أَللّهمَّ اكْفِنِيْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ أَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَنْ مَنْ سِوَاكَ".

مسند أحمد، 5/ 202:

"حدثنا يونس بن محمد حدثنا فُلَيح عن سعيد بن عبد الرحمن بن وائل الأنصاري عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لعن الله الخمر، ولعن شاربها، وساقيها، وعاصرها، ومعتصرها، وبائعها، ومبتاعها، وحاملها، والمحمولة إليه، وآكل ثمنها."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الاستحسان، 5/ 128:

"ومسلم باع خمرًا وأخذ ثمنها وعليه دين يكره لصاحب الدين أن يأخذه منه ولو كان البائع نصرانيًا فلا بأس بأخذه (ووجه) الفرق أن بيع الخمر من المسلم باطل لأنها ليست بمتقومة في حق المسلم فلا يملك ثمنها فبقي على حكم ملك المشتري فلا يصح قضاء الدين به وإن كان البائع نصرانيا فالبيع صحيح لكونها مالا متقوما في حقه فملك ثمنها فصح قضاء الدين منه والله عز وجل أعلم."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، 5/ 143:  

"ولا ينعقد بيع الخنزير من المسلم؛ لأنه ليس بمال في حق المسلمين فأما أهل الذمة فلا يمنعون من بيع الخمر، والخنزير أما على قول بعض مشايخنا فلأنه مباح الانتفاع به شرعا لهم كالخل، وكالشاة لنا فكان مالا في حقهم فيجوز بيعه.
وروي عن سيدنا عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - كتب إلى عشاره بالشام أن ولوهم بيعها، وخذوا العشر من أثمانها، ولو لم يجز بيع الخمر منهم لما أمرهم بتوليتهم البيع، وعن بعض مشايخنا: حرمة الخمر، والخنزير ثابتة على العموم في حق المسلم، والكافر؛ لأن الكفار مخاطبون بشرائع هي حرمات هو الصحيح من مذهب أصحابنا فكانت الحرمة ثابتة في حقهم لكنهم لايمنعون عن بيعها؛ لأنهم لا يعتقدون حرمتها، ويتمولونها.
ونحن أمرنا بتركهم، وما يدينون، ولو باع ذمي من ذمي خمرا، أو خنزيرا ثم أسلما أو أسلم أحدهما قبل القبض يفسخ البيع؛ لأنه بالإسلام حرم البيع، والشراء، فيحرم القبض، والتسليم أيضًا؛ لأنه يشبه الإنشاء أو إنشاء من وجه فيلحق به في باب الحرمات احتياطا، وأصله قوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين} [البقرة: 278] والأمر بترك ما بقي من الربا هو النهي عن قبضته يؤيده قوله تعالى في آخر الآية الشريفة: {وإن تبتم فلكم رءوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون} [البقرة: 279] وإذا حرم القبض، والتسليم لم يكن في بقاء العقد فائدة، فيبطله القاضي كمن باع عبدا فأبق قبل القبض، ولو كان إسلامهما أو إسلام أحدهما بعد القبض مضى البيع؛ لأن الملك قد ثبت على الكمال بالعقد، والقبض في حالة الكفر، وإنما يوجد بعد الإسلام دوام الملك.
والإسلام لا ينافي ذلك فإن من تخمر عصيره لا يؤمر بإبطال ملكه فيها، ولو أقرض الذمي ذميا خمرا ثم أسلم أحدهما فإن أسلم المقرض سقطت الخمر، ولا شيء له من قيمة الخمر على المستقرض أما سقوط قيمة الخمر، فلأن العجز عن قبض المثل جاء من قبله فلا شيء له، وإن أسلم المستقرض.
روي عن أبي يوسف عن أبي حنيفة - رحمه الله - أنه تسقط الخمر، وليس عليه قيمة الخمر أيضا كما لو أسلم المقرض، وروى محمد، وزفر، وعافية بن زياد القاضي عن أبي حنيفة - رضي الله عنهم - أن عليه قيمة الخمر، وهو قول محمد - رحمه الله -.
(وجه) هذه الرواية أن امتناع التسليم من المستقرض إنما جاء لمعنى من قبله، وهو إسلامه فكأنه استهلك عليه خمره، والمسلم إذا استهلك خمر الذمي يضمن قيمته.
(وجه) رواية أبي يوسف - رحمه الله - أنه لا سبيل إلى تسليم المثل؛ لأنه يمنع منه، ولا إلى القيمة؛ لأن ذلك يوجب ملك المستقرض، والإسلام يمنع منه، والله - سبحانه وتعالى - أعلم."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل جواز وإفساد نكاح أهل الذمة، 2/ 314:

"لأن الإسلام متى ورد، والحرام مقبوض يلاقيه بالعفو؛ لأن الملك قد ثبت على سبيل الكمال بالعقد والقبض في حال الكفر، فلا يثبت بعد الإسلام ملك، وإنما يوجد، دوام الملك، والإسلام لا ينافيه، كمسلم تخمر عصيره أنه لا يؤمر بإبطال ملكه فيها، وكما في نزول تحريم الربا.
وروي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما دخل مكة أبطل من الربا ما لم يقبض، ولم يتعرض صلى الله عليه وسلم لما قبض بالفسخ، وهو أحد تأويلات قوله عز وجل {يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين} [البقرة: 278] أمر سبحانه بترك ما بقي من الربا، والأمر بترك ما بقي من الربا هو النهي عن قبضه، والله عز وجل الموفق."

النهر الفائق شرح كنز الدقائق، باب المتفرقات، 3/ 511:   

"وأما عدم جواز بيع الخمر فلنص ... وهو قوله عليه الصلاة والسلام: (إن الذي حرم شربها حرم بيعها)."

النهر الفائق شرح كنز الدقائق، باب البيع الفاسد، 3/ 417:  

"ولم يجز بيع (الخمر والخنزير) غير أنهما إن كانا مبيعين قوبلا بدين في الذمة كان البيع باطلًا، وإن يعين فسد فيما قابلهما وبطل فيهما الفرق أن الخمر مال عند أهل الذمة أمرنا بإهانتها في شرعنا وفي تملكها مقصودة بجعلها مبيعة إعزاز لها بخلاف جعلها ثمنًا، وإذا بطل لذلك فلأن يبطل، وإذا لذلك فلأن يبطل بجعل المبيعة مبيعًا أولى ومقتضى هذا يبطل في المقايضة بالأولى لأن كلًا منهما مبيع، لكن لما كان كل منهما ثمنًا كما أن كلًا منهما مبيع وثبت صحة اعتبار الثمنية والمبيعة فاعتبر الخمر ثمنًا والعكس، وإن أمكن رجح هذا الاعتبار لما فيه من الاحتياط للقرب من تصحيح تصرف العقلاء باعتبار الإعزاز للثوب مثلًا فيبقي ذكر الخمر معتبرًا/ لإعزاز الثوب أو الخمر لما قلنا قيد بالخمر لأن بيع ما سواها من الأشربة المحرمة جائز عنده خلافًا لهما، كذا في (البدائع) والكلام في المسلمين.

أما أهل الذمة فلا يمنعون من بيعهما وهل هو مع إباحة الانتفاع بهما شرعًا؟ قيل: نعم وقيل: لا هو الصحيح، ولكن لا يمنعون مع البيع لاعتقادهم الحل والتمول وقد أمرنا بتركهم وما يدينون، ولو أسلما أو أحدهما قبل قبض المبيع انفسخ لا بعده، ولو قرضه خمرًا ثم أسلم المقرض فلا شيء له من قيمتها. كذا في (البدائع) وجلود الميتة كالخمر لأنها لرغبة الناس فيها صارت مالًا من وجه، كذا في (المحيط) واختار البزدوي أنها كالميتة."

النهر الفائق شرح كنز الدقائق، باب المهر، 2/ 266:

"(وكذا) إذا تناكح (الحربيان ثم) بفتح المثلثة ظرف مكان أي: في دار الحرب باتفاق الثلاثة خلافاً لزفر لأنهم لا يلتزمون الأحكام ولا ولاء لنا عليهم للتباين (ولو تزوج ذمي ذمية بخمر أو خنزير عين) أي: أشار إليه (فأسلما أو أسلم أحدهما) قبل القبض ولم يقيده به لأن التفرقة بين المعين وغيره إنما تتأتى في هذه الحالة أما بعد القبض فليس لها إلا ما قبضته ولو كان غير عين وقت العقد (لها الخمر والخنزير) فتخلل الخمر وتسيب الخنزير (ولها في غير العين) بالإشارة (قيمة الخمر ومهر المثل في الخنزير) عند الإمام، وقال الثاني: لها مهر المثل في الوجهين والثالث لها القيمة في الوجهين لهما أن القبض مؤكد للملك في العين ألا ترى أنه لو هلك أو تعيب فاحشاً قبله هلك من مال الزوج فكان له شبه بالعقد فيمتنع بالإسلام كما في غير المعين غير أن الثاني يقول لو كانا مسلمين وقت العقد يجب مهر المثل فكذا هنا ومحمد يقول: صحت التسمية لكون المسمى مالاً عندهم إلا أنه امتنع التسليم للإسلام فوجب القيمة وله أن الملك في المعين يتم بنفس العقد ولذا ملكت التصرف فيه وبالقبض ينتقل من ضمان الزوج إلى ضمانها وذلك لا يمتنع بالإسلام وفي غير المعين القبض موجب فيمتنع بالإسلام فوجب قيمة الخمر لأنه من ذوات الأمثال."

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار)، 5/ 99:

"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه." فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144111200167

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں