بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

شراب کی خالی بوتلیں بیچنا


سوال

شراب کی خالی بوتل کی بیع کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر یہ یقین ہو کہ شراب کی خالی بوتل خریدنے والا اسے شراب پینے یا کسی حرام کام میں استعمال کرے گا تو ایسے شخص کو شراب کی خالی بوتل بیچنا ناجائز ہے۔

 اگر یہ یقین ہو کہ  شراب کی خالی بوتل خریدنے والا شخص اس بوتل کو کسی جائز کام میں استعمال کرے گا تو بیچنے کی اجازت ہے۔

لیکن عام طور پر شراب کی بوتل جائز کاموں میں استعمال نہیں کی جاتی لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200492

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں